تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 286 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 286

تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام اِنَّ هَذَيْنِ چاہیے۔قلْنَا لَا تَخَفْ إِنَّكَ أَنْتَ الْأَعْلَى ۲۸۶ سورة طه (حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۳۱۷ حاشیه ) یعنی کچھ خوف مت کر کہ تو غالب ہے اور فتح تیرے نام ہے۔مت ڈرغلبہ تجھی کو ہے۔کچھ خوف مت کر تو ہی غالب ہے۔مت خوف کر کہ غلبہ تجھ کو ہے۔( تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۱۹۵) انجام آنتظم، روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۵۹) (حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۳۱۴) (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۹۶) خدا تعالیٰ کے بندوں کے واسطے بھی اعلی کا لفظ آیا اور ہمیشہ آتا ہے جیسے اِنَّكَ أَنتَ الأعلى مگر یہ تو انکسار البدر جلد نمبر ۱ مورخه ۳۱/اکتوبر ۱۹۰۲ ء صفحه ۴) سے ہوتا ہے۔یا درکھو علو دو قسم کا ہوتا ہے ایک تو وہ علو ہے جو شیطانی علو آبی و استکبر میں آیا ہے اور شیطان کے حق میں اعلی بھی آیا ہے جیسے فرمایا: آمر كُنتَ مِنَ الْعَالِينَ یعنی تیرا یہ استعلا تکبر کے رنگ میں ہے یا واقعی تو اعلیٰ ہے ورنہ حقیقی علوتو خدا تعالیٰ کے خاص بندوں کے لئے ہے جو أَما بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَيَّات کے موافق اس کو ظاہر کر سکتے ہیں جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فر ما یا لا تَخَفْ إِنَّكَ أَنْتَ الأغلى يه علق جو خدا تعالیٰ کے خاص بندوں کو دیا جاتا ہے وہ انکسار کے رنگ میں ہوتا ہے اور شیطان کا علو استکبار سے ملا ہوا تھا۔دیکھو ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہ نے جب مکہ کو فتح کیا تو آپ نے اسی طرح اپنا سر جھکایا اور سجدہ کیا جس طرح پر ان مصائب اور مشکلات کے دنوں میں جھکاتے اور سجدے کرتے تھے جب اسی مکہ میں آپ کی ہر طرح سے مخالفت کی جاتی اور دکھ دیا جاتا تھا۔جب آپ نے دیکھا کہ میں کس حالت میں یہاں سے گیا تھا اور کس حالت میں اب آیا ہوں تو آپ کا دل خدا کے شکر سے بھر گیا اور آپ نے سجدہ کیا۔احکم جلد ۶ نمبر ۳۹ مورخه ۳۱/اکتوبر ۱۹۰۲ صفحه ۷) وَ الْقِ مَا فِي يَمِينِكَ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوا إِنَّمَا صَنَعُوا كَيْدُ سُحِرٍ ۖ وَلَا يُفْلِحُ السَّاحِرُ حَيثُ أتى۔(اس سوال کے جواب میں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کافروں نے جو جادو کیا تھا اس کی نسبت آپ کا