تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 282
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۸۲ سورة طه لئے جس پر اس کی بقا موقوف ہے اس کے دل میں آپ خواہش ڈالی۔سو یہی صداقتِ حقہ ہے جس کو ایک قاعدہ کلی کے طور پر اللہ جل شانہ نے اپنی کتاب عزیز میں بیان فرما دیا ہے۔نادانوں اور جاہلوں کی نظر محیط نہیں ہوتی اس لئے وہ فقط ایک جزئی کو دیکھ کر اپنی غرض فاسد کے مطابق اس کے لئے ایک جھوٹھ منصو بہ گھٹڑ لیتے ہیں اور دوسرے جزئیات کو جو اسی کے شریک ہیں چھوڑ دیتے ہیں۔( شحنه حق ، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۳۵۷) وہ خدا جس نے ہر چیز کو اس کے مناسب حال قومی اور جوارح بخشے اور پھر ان کو استعمال میں لانے کی (جنگ مقدس ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۷۸) توفیق دی۔وہ خدا جس نے ہر چیز کو اس کے مناسب حال کمال خلقت بخشا اور پھر اس کو دوسرے کمالاتِ مطلوبہ کے لئے رہنمائی کی۔پس یہ انعام ہے کہ ہر یک چیز کو اول اس کے وجود کی رو سے وہ تمام قومی وغیرہ عنایت ہوں جن کی وہ چیز محتاج ہے۔پھر اس کے حالات مترقبہ کے حصول کے لئے اس کو راہیں دکھائی جائیں۔(منن الرحمن ، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۱۵۴، ۱۵۵ حاشیه ) قرآن نے خدا کی معرفت عطا کرنے کے لئے دو طریق رکھے ہیں اول وہ طریق جس کی رو سے انسانی عقل عقلی دلائل پیدا کرنے میں بہت قوی اور روشن ہو جاتی ہے اور انسان غلطی کرنے سے بچ جاتا ہے اور دوسرا روحانی طریق۔۔۔۔اب دیکھو کہ عقلی طور پر قرآن نے خدا کی ہستی پر کیا کیا عمدہ اور بے مثل دلائل دیئے ہیں جیسا کہ ایک جگہ فرماتا ہے رَبُّنَا الَّذِى اَعْطَى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ ھدی یعنی خداوہ خدا ہے کہ جس نے ہر ایک شے کے مناسب حال اس کو پیدائش بخشی پھر اس شے کو اپنے کمالات مطلوبہ حاصل کرنے کے لئے راہ دکھلا دی۔اب اگر اس آیت کے مفہوم پر نظر رکھ کر انسان سے لے کر تمام بحری اور بری جانوروں اور پرندوں کی بناوٹ تک دیکھا جائے تو خدا کی قدرت یاد آتی ہے کہ ہر ایک چیز کی بناوٹ اس کے مناسب حال معلوم ہوتی ہے پڑھنے والے خود سوچ لیں کیونکہ یہ مضمون بہت وسیع ہے۔(اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۶۹،۳۶۸) یہ بات بیان کر دینے کے لائق ہے کہ جن کو خدا تعالیٰ کا ہاتھ امام بناتا ہے ان کی فطرت میں ہی امامت کی قوت رکھی جاتی ہے اور جس طرح الہی فطرت نے بموجب آیت کریمہ اغطى كل شى و خَلْقَه ہر ایک چرند اور پرند میں پہلے سے وہ قوت رکھ دی ہے جس کے بارے میں خدا تعالیٰ کے علم میں یہ تھا کہ اس قوت سے اس