تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 281
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۸۱ سورة طه کرے اور جہاں بجز بسختی کرنے کے کام ہوتا نظر نہ آوے وہاں نرمی کرنا بھی گناہ ہے۔گر حفظ مراتب نہ کنی زندیقی دیکھو فرعون بظاہر کیسا سخت کا فرانسان تھا مگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت موسیٰ کو یہی ہدایت ہوئی کہ قُولَا لَهُ قَوْلاً لينا رسول اکرم کے واسطے بھی قرآن شریف میں اسی قسم کا حکم ہے: وَ اِنْ جَنَحُوا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا (الانفال :۶۲) مومنوں اور مسلمانوں کے واسطے نرمی اور شفقت کا حکم ہے۔رسول اللہ اور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی بھی ایسی ہی حالت بیان کی گئی جہاں فرمایا ہے کہ محمد رَسُولُ اللهِ وَالَّذِينَ مَعَةَ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكَفَارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمُ (الفتح :۳۰) چنانچہ ایک دوسرے مقام پر آنحضرت کو مخاطب کر کے فرمایا ہے کہ منافق اور کفار کا سختی سے مقابلہ کرو چنانچہ فرماتا ہے کہ یااَيُّهَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكَفَارَ وَالْمُنْفِقِينَ وَاغْلُظ عَلَيْهِمْ (التوبة : ۷۳) غرض ان آیات سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ خود خدا تعالیٰ نے بھی حفظ مراتب کا لحاظ رکھا ہے مومنوں اور ایمانداروں کے واسطے کیسی نرمی کا حکم ہے اور کفار میں سے بعض میں مادہ ہی ایسا ہوتا ہے کہ ان کو سختی کی ضرورت ہوتی ہے جس طرح سے بعض بیماریوں یا زخموں میں ایک حکیم حاذق کو چیرا پھاڑی اور عمل جراحی سے کام لینا پڑتا ہے۔الحام جلد ۱۴ نمبر ۲۷ مورخه ۱۴ را پریل ۱۹۰۸ صفحه ۳) قَالَ رَبُّنَا الَّذِى أعطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى حکمت کاملہ البہیہ سے ہر یک چیز میں تحصیل غذا کے لئے پہلے ہی سے ایک قوت رکھی جاتی ہے خواہ وہ چیز پتھر ہو یا درخت یا انسان یا حیوان۔در حقیقت یہ سب ایک ہی قوت کی تحریکوں سے حصول غذا کے لئے متوجہ کی جاتی ہیں اور اس بات کے جواب میں کہ کیوں یہ چاروں قسم کی چیز میں غذا کی طالب ہیں کوئی جدا جدا بیان نہیں تا کسی جگہ پہلے جنم کی یادداشت اور اس کا خیال بنا رہنا سمجھا جائے اور کسی جگہ کوئی اور وجہ بتلائی جائے بلکہ در حقیقت ان چاروں چیزوں کا تحصیل غذا کے لئے میل کرنا ایک ہی باعث سے ہے یعنی فطرتی قوت جو وجود پیدا ہونے کے ساتھ ہی اس میں پیدا ہو جاتی ہے اور اسی کی طرف اس پاک اور مقدس کلام میں اشارہ ہے جو فلسفی صداقتوں سے بھرا ہوا ہے جیسا کہ وہ جلتا نہ فرماتا ہے اَعْطَى كُلَّ شَيْءٍ خَلَقَهُ ثُمَّ هدی یعنی تمہارا وہ خدا ہے جس نے ہر یک چیز کو مناسب حال اس کے وجود بخشا پھر غذ اوغیرہ کی طلب کے