تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 271
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۷۱ سورة مريم ایک ہی نکتہ کے حل ہونے سے رفع ہو جاتے ہیں کہ عالم آخرت ایک تمثلی خلق کا عالم ہے یہ خدا تعالی کے بھیدوں میں سے ایک بھید ہے کہ وہ بعض اشیاء کو ملی طور پر ایسا ہی پیدا کر دیتا ہے جیسا دوسرے طور پر ہوا کرتا ہے جیسے تم دیکھتے ہو کہ آئینہ میں تمہاری ساری شکل منعکس ہو جاتی ہے اور تم خیال کر سکتے ہو کہ کس طرح عکسی طور پر تمہاری تصویر کھینچی جاتی ہے کیسے تمہارے تمام خال و خط ان میں آ جاتے ہیں۔پھر اگر خدا تعالیٰ روحانی امور کی سچ مچ تصویر کھینچ کر اور ان میں صداقت کی جان ڈال کر تمہاری آنکھوں کے سامنے رکھ دیوے تو کیوں اس سے تعجب کیا جاوے۔اللہ جل شانہ ڈھونڈنے والوں پر اسی دنیا میں یہ تمام صداقتیں ظاہر کر دیتا ہے اور آخرت میں کوئی بھی ایسا امر نہیں جس کی کیفیت اس عالم میں کھل نہ سکے۔اور اگر یہ اعتراض کسی کے دل میں خلجان کرے کہ آیت وَ اِن مِنكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا کے بعد میں یہ آیت ہے کہ ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِينَ اتَّقَوْا وَ نَذَرُ الظَّلِمِينَ فِيهَا جِثِيًّا۔یعنی پھر ہم ورود دوزخ کے بعد متقیوں کو نجات دیں گے اور ظالموں کو دوزخ میں گرے ہوئے چھوڑ دیں گے۔اور نجات دینے کے مفہوم میں یہ بات داخل ہے کہ اول انسان کسی عذاب یا بلا میں مبتلا ہو پھر اس سے اس کو رہائی بخشی جاوے لیکن ان معنوں کی رو سے نعوذ باللہ لازم آتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے مقرب بندے کسی حد تک عذاب دوزخ میں مبتلا ہو جائیں گے اور پھر اس سے ان کو نجات دی جائے گی تو اس وہم کا یہ جواب ہے کہ نجات کا لفظ اس جگہ اپنے حقیقی معنوں پر مستعمل نہیں بلکہ اس سے صرف اس قدر مراد ہے کہ مومنوں کا نجات یافتہ ہونا اس وقت ہم ظاہر کر دیں گے اور لوگوں کو دکھا ئیں گے کہ وہ اس سخت قلق اور کرب کی جگہ سے نجات پا کر اپنی مرادات کو پہنچ گئے اور قرآن کریم میں یہ سنت اللہ ہے کہ بعض الفاظ اپنی اصلی حقیقت سے پھر کر مستعمل ہوتے ہیں جیسا کہ فرماتا ہے وَ اَقْرَضُوا الله قَرْضًا حَسَنًا (المزمل : ۲۱) یعنی قرض دو اللہ کو قرض اچھا۔اب ظاہر ہے کہ قرض کی اصل تعریف کے مفہوم میں یہ داخل ہے کہ انسان حاجت اور لاچاری کے وقت دوسرے سے بوقت دیگر ادا کرنے کے عہد پر کچھ مانگتا ہے لیکن اللہ جل شانہ حاجت سے پاک ہے پس اس جگہ قرض کے مفہوم میں سے صرف ایک چیز مراد لی گئی یعنی اس طور سے لینا کہ پھر دوسرے وقت اس کو واپس دے دینا اپنے ذمہ واجب ٹھہرا لیا ہو۔ایسا ہی یہ آیت وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ (البقرة : ۵۲)۔اصل مفہوم سے پھیری گئی کیونکہ عرف عام میں آزمائش کرنے والا اس نتیجہ سے غافل اور بے خبر ہوتا ہے جو امتحان کے بعد پیدا ہوتا ہے مگر اس سے اس جگہ یہ مطلب نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے امتحان میں ڈالنے سے یہ مطلب ہے کہ تا شخص زیر امتحان پر اس کے اندرونی عیب یا