تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 269
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۶۹ سورة مريم 91: جائیں گے کہ اس پر چلیں۔سو اگر ہم دنیا میں صراط مستقیم پر چلتے رہے ہیں اور دائیں بائیں نہیں چلے تو ہم کو اس صراط سے کچھ بھی خوف نہیں ہوگا اور نہ جہنم کی بھاپ ہم تک پہنچے گی اور نہ کوئی فزع اور خوف ہمارے دل پر طاری ہوگا بلکہ نور ایمان کی قوت سے چمکتی ہوئی برق کی طرح ہم اس سے گزر جائیں گے کیونکہ ہم پہلے اس سے گزرچکے ہیں اسی کی طرف اللہ جلشانہ اشارہ فرماتا ہے مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَه خَيْرٌ مِنْهَا ۚ وَهُمْ مِنْ فَزَع يَوْمَينِ أمِنُونَ ( النمل : ٩٠ ) الجزو نمبر ۲۰ سورۃ العمل۔یعنی نیکی کرنے والوں کو قیامت کے دن اس نیکی سے زیادہ بدلا ملے گا اور وہ ہر ایک ڈر سے اس دن امن میں رہیں گے ایسا ہی فرمایا ہے يُعِبادِ لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ وَلَا أَنْتُمْ تَحْزَنُونَ ( الزخرف : ۶۹) الجزو نمبر ۲۵ سورة الزخرف۔یعنی اے میرے بندو آج کے دن کچھ تم کو خوف نہیں اور نہ کوئی غم تمہیں ہو سکتا ہے۔لیکن جو شخص دنیا میں صراط مستقیم پر نہیں چلا وہ اس وقت بھی چل نہیں سکے گا اور دوزخ میں گرے گا اور جہنم کی آگ کا ہیمہ بن جائے گا۔جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے وَمَنْ جَاءَ بِالسَّيِّئَةِ فَكَبَتْ وُجُوهُهُمْ فِي النَّارِ هَلْ تُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ (النمل: ٩١) الجزو نمبر ۲۰۔یعنی بدی کرنے والے اس دن جہنم میں گرائے جائیں گے اور کہا جائے گا کہ یہ جزا در حقیقت وہی تمہارے اعمال ہیں جو تم دنیا میں کرتے تھے یعنی خدا تعالیٰ کسی پر ظلم نہیں کرے گا بلکہ نیکی کے اعمال جنت کی صورت میں اور بدی کے اعمال دوزخ کی صورت میں ظاہر ہو جائیں گے۔جاننا چاہیے کہ عالم آخرت در حقیقت دنیوی عالم کا ایک عکس ہے اور جو کچھ دنیا میں روحانی طور پر ایمان اور ایمان کے نتائج اور کفر اور کفر کے نتائج ظاہر ہوتے ہیں وہ عالم آخرت میں جسمانی طور پر ظاہر ہو جائیں گے اللہ جل شانہ فرماتا ہے مَنْ كَانَ فِي هَذِةٍ أَعْلَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أعلى (بنی اسرائیل : ۷۳) یعنی جو اس جہان میں اندھا ہے وہ اس جہان میں بھی اندھا ہی ہوگا۔ہمیں اس مثلی وجود سے کچھ تعجب نہیں کرنا چاہیئے اور ذرا سوچنا چاہیے کہ کیوں کر روحانی امور عالم رؤیا میں متمثل ہو کر نظر آ جاتے ہیں اور عالم کشف تو اس سے بھی عجیب تر ہے کہ باوجود عدم غیبت حس اور بیداری کے روحانی امور طرح طرح کے جسمانی اشکال میں انہیں آنکھوں سے دکھائی دیتے ہیں جیسا کہ بسا اوقات عین بیداری میں ان روحوں سے ملاقات ہوتی ہے جو اس دنیا سے گذر چکی ہیں اور وہ اسی دنیوی زندگی کے طور پر اپنے اصلی جسم میں اسی دنیا کے کپڑوں میں سے ایک پوشاک پہنے ہوئے نظر آتے ہیں اور باتیں کرتے ہیں اور بسا اوقات ان میں سے مقدس لوگ بازعہ تعالی آئندہ کی خبریں دیتے ہیں اور وہ خبریں مطابق واقعہ نکلتی ہیں بسا اوقات عین بیداری میں