تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 268 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 268

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۶۸ سورة مريم کہ متقی بھی اس نار کی مس سے خالی نہیں ہیں۔اس بیان سے مراد یہ ہے کہ متقی اسی دنیا میں جو دار الا بتلا ہے انواع اقسام کے پیرایہ میں بڑی مردانگی سے اس نار میں اپنے تئیں ڈالتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے لئے اپنی جانوں کو ایک بھڑکتی ہوئی آگ میں گراتے ہیں اور طرح طرح کے آسمانی قضاء وقد ربھی نار کی شکل میں ان پر وارد ہوتے ہیں وہ ستائے جاتے اور دکھ دیئے جاتے ہیں اور اس قدر بڑے بڑے زلزلے ان پر آتے ہیں کہ ان کے ماسوا کوئی ان زلازل کی برداشت نہیں کر سکتا اور حدیث صحیح میں ہے کہ آپ بھی جو مومن کو آتا ہے وہ نار جہنم میں سے ہے اور مومن بوجہ تپ اور دوسری تکالیف کے نار کا حصہ اسی عالم میں لے لیتا ہے اور ایک دوسری حدیث میں ہے کہ مومن کے لئے اس دنیا میں بہشت دوزخ کی صورت میں متمثل ہوتا ہے یعنی خدا تعالیٰ کی راہ میں تکالیف شاقہ جہنم کی صورت میں اس کو نظر آتی ہیں پس وہ بطیب خاطر اس جہنم میں وارد ہو جاتا ہے تو معا اپنے تئیں بہشت میں پاتا ہے۔اسی طرح اور بھی احادیث نبویہ بکثرت موجود ہیں جن کا ماحصل یہ ہے کہ مومن اسی دنیا میں نار جہنم کا حصہ لے لیتا ہے اور کافر جہنم میں بجبر و اکراہ گرایا جاتا ہے لیکن مومن خدا تعالیٰ کے لئے آپ آگ میں گرتا ہے۔ایک اور حدیث اسی مضمون کی ہے جس میں لکھا ہے کہ ایک حصہ نار کا ہر یک بشر کے لئے مقدر ہے چاہے تو وہ اس دنیا میں اس آگ کو اپنے لئے خدا تعالیٰ کی راہ میں قبول کر لیوے اور چاہے تو نعم اور غفلت میں عمر گزارے اور آخرت میں اپنے تنعم کا حساب دیوے اور آیت وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا۔کے ایک دوسرے معنے بھی ہیں اور وہ یہ ہے کہ عالم آخرت میں ہر یک سعید اور شقی کو متمثل کر کے دکھلا دیا جائے گا کہ وہ دنیا میں سلامتی کی راہوں میں چلایا اس نے ہلاکت اور موت اور جہنم کی راہیں اختیار کیں سو اس دن وہ سلامتی کی راہ جو صراط مستقیم اور نہایت باریک راہ ہے جس پر چلنے والے بہت تھوڑے ہیں اور جس سے تجاوز کرنا اور ادھر اُدھر ہونا در حقیقت جہنم میں گرنا ہے تمثل کے طور پر نظر آ جائے گی اور جولوگ دنیا میں صراط مستقیم پر چل نہیں سکے وہ اس روز اس صراط پر بھی چل نہیں سکیں گے کیونکہ وہ صراط در حقیقت دنیا کی روحانی صراط کا ہی ایک نمونہ ہے اور جیسا کہ ابھی روحانی آنکھوں سے ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ہماری صراط کے دائیں بائیں در حقیقت جہنم ہے اگر ہم صراط کو چھوڑ کر دائیں طرف ہوئے تب بھی جہنم میں گرے اور اگر بائیں طرف ہوئے تب بھی گرے اور اگر سید ھے صراط مستقیم پر چلے تب جہنم سے بچ گئے۔یہی صورت جسمانی طور پر عالم آخرت میں ہمیں نظر آ جائے گی اور ہم آنکھوں سے دیکھیں گے کہ در حقیقت ایک صراط ہے جو پل کی شکل پر دوزخ پر بچھایا گیا ہے جس کے دائیں بائیں دوزخ ہے تب ہم مامور کئے