تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 267 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 267

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۶۷ سورة مريم ہم نے اس کو یعنی اس نبی کو عالی مرتبہ کی جگہ پر اٹھا لیا۔اس آیت کی تشریح یہ ہے کہ جو لوگ بعد موت خدا تعالیٰ کی طرف اٹھائے جاتے ہیں ان کے لئے کئی مراتب ہوتے ہیں۔سو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے اس نبی کو بعد اٹھانے کے یعنی وفات دینے کے اس جگہ عالی مرتبہ دیا۔نواب صدیق حسن خان اپنی تفسیر فتح البیان میں لکھتے ہیں کہ اس جگہ رفع سے مرا در فع روحانی ہے جو موت کے بعد ہوتا ہے ورنہ یہ محذور لازم آتا ہے کہ وہ نبی مرنے کے لئے زمین پر آوے۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۳۸۵ حاشیه) رَفَعْنَهُ مَكَانًا عَلِيًّا میں ان کو ماننا پڑا ہے کہ اور میں مر گیا۔صدیق حسن خان نے لکھا ہے کہ اگر حضرت اور میں کو ایسا ما نہیں تو پھر ان کے بھی واپس آنے کا عقیدہ رکھنا پڑتا ہے جو صحیح نہیں تعجب ہے کہ حضرت عیسی کے لئے تو فی موجود ہے پھر بھی اس کی موت سے انکار کرتے ہیں۔(الکام جلد ۶ نمبر ۴۰ مورخه ۱۰ نومبر ۱۹۰۲ صفحه ۶) وَ اِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا كَانَ عَلَى رَبِّكَ حَتْمًا مَقْضِيَّانَ ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِينَ اتَّقَوا ، وَنَذَرُ الظَّلِمِينَ فِيهَا جِثِيًّان صفت ظلومیت انسان کے مراتب سلوک کا ایک مرکب اور اس کے مقامات قرب کیلئے ایک عظیم الشان ذریعہ اس کو عطا کیا گیا ہے جو بوجہ مجاہدات شاقہ کے اوائل حال میں نار جہنم کی شکل پر تجلی کرتا ہے لیکن آخر نعماء جنت تک پہنچا دیتا ہے اور در حقیقت قرآن کریم کے دوسرے مقام میں جو یہ آیت ہے وَ اِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا كَانَ عَلَى رَبِّكَ حَتْماً مَقْضِيًّا ثُمَّ نُنَخِي الَّذِينَ اتَّقَوْا وَ نَذَرُ الظَّلِمِينَ فِيهَا جِثِيًّا۔یہ بھی درحقیقت صفت محمود و ظلومیت کی طرف ہی اشارہ کرتی ہے اور ترجمہ آیت یہ ہے کہ تم میں سے کوئی بھی ایسا نفس نہیں جو آگ میں وارد نہ ہو یہ وہ وعدہ ہے جو تیرے رب نے اپنے پر امر لازم اور واجب الادا ٹھہرا رکھا ہے پھر ہم اس آگ میں وارد ہونے کے بعد متقیوں کو نجات دے دیتے ہیں اور ظالموں کو یعنی ان کو جو مشرک اور سرکش ہیں جہنم میں زانو پر گرے ہوئے چھوڑ دیتے ہیں۔اس جگہ الظالمین پر جو الف لام آیا ہے۔وہ فائدہ تخصیص کا دیتا ہے اور اس سے غرض یہ ہے کہ ظالم دو قسم کے ہیں ؛ (۱) ایک متقی ظالم جن کی نجات کا وعدہ ہے اور جو خدا تعالیٰ کے پیارے ہیں۔اور جو آیت فَمِنْهُم ظَالِمُ (فاطر :۳۳) میں ناجیوں میں شمار کئے گئے ہیں۔(۲) دوسرے مشرک اور کافر اور سرکش ظالم جو جہنم میں گرائے جائیں گے اور اس آیت میں بیان فرمایا