تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 265
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۶۵ سورة مريم سے اس کا حشر ہوگا اور ادریس کا پھر زمین پر آنا اور دوبارہ آسمان سے نازل ہونا قرآن اور حدیث سے ثابت نہیں لہذا یہ امر ثابت ہے کہ رفع سے مراد اس جگہ موت ہے مگر ایسی موت جو عزت کے ساتھ ہو جیسا کہ مقربین کے لئے ہوتی ہے کہ بعد موت ان کی روحیں علیین تک پہنچائی جاتی ہیں۔فِي مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِيكِ (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۲۳، ۴۲۴) مقْتَدِرٍ ( القمر : ۵۶)۔وَأَمَّا قَوْلُهُ تَعَالَى فِي قِصَّةِ إِدْرِيسَ اور حضرت ادریس کے قصہ میں خدا کا یہ قول کہ وَ رَفَعَهُ وَرَفَعْنَهُ مَكَانًا عَلِيًّا فَاتَّفَقَ الْمُحَقِّقُونَ مَكَانًا عَلِيًّا " ہم نے اس کو ایک بلند مقام کی طرف اٹھایا مِنَ الْعُلَمَاء اَنَّ الْمُرَاد مِنَ الرَّفْعِ هُنا اس بارہ میں محقق علماء اس بات پر متفق ہیں کہ یہاں رفع سے هُوَ الْإِمَاتَهُ بِالْإِكْرَامِ وَرَفْعُ الدَّرَجَاتِ، مراد عزت کے ساتھ موت دینا اور درجات کا بلند کرنا ہے اور وَالدَّلِيلُ عَلَى ذلِكَ أَنَّ لِكُلِّ إِنْسَانٍ مَوْتُ اس پر دلیل یہ ہے کہ ہر انسان کے لئے موت مقدر ہے کیونکہ مُقَدِّرُ لِقَوْلِهِ تَعَالَى كُلٌّ مَنْ عَلَيْهَا الله تعالیٰ نے فرمایا ہے كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ ( ہر ایک جو زمین فان وَلَا يَجُوزُ الْمَوْتُ في السَّمَاوَاتِ پر ہے فنا ہونے والا ہے ) اور آسمانوں میں موت کا جواز نہیں ووروو ،، لِقَوْلِهِ تَعَالَى: وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ ، وَلَا پایا جاتا کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "وَفِيهَا نُعِيدُكُم تَجِدُ فِي الْقُرْآنِ ذِكْرَ نُزُولِ إِدْرِيسَ (اور ہم اسی زمین میں تم کو لوٹائیں گے ) اور ہم قرآن میں اور یس وَمَوْتِهِ وَدَفَيهِ فِي الْأَرْضِ فَقبَت کے نزول اور اس کی موت اور زمین میں دفن ہونے کا ذکر بِالضُّرُورَةِ أَنَّ الْمُرَادَ مِنَ الرَّفْعِ الْمَوْتُ نہیں پاتے۔پس بالضرور ثابت ہوا کہ رفع سے مراد موت ہے۔فَحَاصِلُ الكَلَامِ أَنَّ كُلَّ مَا يُخَالِفُ الغرض حاصل کلام یہ ہے کہ ہر بات جو قرآن کے مخالف ہو الْقُرْآنَ وَيُعَارِضُ قِصَصَهُ فَهِيَ أَبَاطِیلُ اور اس کے قصوں کے مخالف ہو تو وہ باطل ، جھوٹ اور افتراء وَأَكَاذِيبُ، وَإِنَّمَا هُوَ تَقَولُ الْمُفْتَرِينَ کرنے والوں کی من گھڑت باتیں ہیں۔( ترجمہ از مرتب) (حمامة البشری ، روحانی خزائن جلد ۷ صفحه ۲۲۰) قطعی اور یقینی یہی امر ہے کہ حضرت مسیح بجسده العصری آسمان پر نہیں گئے بلکہ موت کے بعد آسمان پر گئے ہیں۔بھلا ہم ان لوگوں سے پوچھتے ہیں کہ کیا موت کے بعد حضرت یحیی اور حضرت آدم اور حضرت ادریس اور حضرت ابراہیم اور حضرت یوسف و غیرہ آسمان پر اٹھائے گئے تھے یا نہیں اگر نہیں اٹھائے گئے تو پھر کیوں الرحمن: ۲۷ وظه : ۵۶