تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 258
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۵۸ سورة مريم سے نہیں پکارا جائے گا بوجہ انطباق کلی اسی نام سے پکارا جائے گا جس نبی کا وہ مثیل بن کر آئے گا۔(ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳۹۰،۳۸۹) ييَحْيى خُذِ الْكِتَبَ بِقُوَّةٍ وَآتَيْنَهُ الْحُكْمَ صَبيَّات ( حضرت اقدس نے اپنا ایک پرانا الہام سنایا: بیخيى خُلِ الْكِتب بقوة - وَالْخَيْرُ كُله في الْقُرْآنِ۔اور فرمایا ) اس میں ہم کو حضرت یحیی کی نسبت دی گئی ہے کیونکہ حضرت یحیی کو یہود کی ان اقوام سے مقابلہ کرنا پڑا تھا جو کتاب اللہ توریت کو چھوڑ بیٹھے تھے اور حدیثوں کے بہت گرویدہ ہور ہے تھے اور ہر بات میں احادیث کو پیش کرتے تھے۔ایسا ہی اس زمانہ میں ہمارا مقابلہ اہلِ حدیث کے ساتھ ہوا کہ ہم قرآن پیش کرتے اور وہ حدیث پیش کرتے ہیں۔الحکم جلد ۶ نمبر ۱۵ مورخه ۲۴ را پریل ۱۹۰۲ء صفحه ۸) وَسَلامُ عَلَيْهِ يَوْمَ وُلِدَ وَ يَوْمَ يَمُوتُ وَيَوْمَ يُبْعَثُ حَيَّا۔آیت سلمٌ عَلَيْهِ يَوْمَ وُلِد صاف دلالت کر رہی ہے کہ میں شیطان سے محفوظ ہونا ابن مریم سے مخصوص نہیں اور زمخشری کا یہ طعن که حدیث خصوصیت این مریم درباره محفوظیت از مس شیطان جو امام بخاری اپنی صحیح میں لایا ہے نقص سے خالی نہیں اور اس کی صحت میں کلام ہے جیسا کہ خود اس نے بیان کیا ہے فضول ہے کیونکہ عمیق نظر سے علوم ہوتا ہے کہ امام بزرگ بخاری نے خود اشارہ کر دیا ہے کہ ابن مریم اور اس کی والدہ سے مراد ہر یک ایسا شخص ہے جو ان دونوں کی صفتیں اپنے اندر جمع رکھتا ہو۔فَلَا تَنَاقُضَ وَلَا تَعَارُضَ۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۵۹۳) محققوں نے بخاری کی اس حدیث کو جو صفحہ ۶۵۲ میں لکھی ہے یعنی یہ کہ مَا مِنْ مَوْلُودٍ يُولَدُ إِلَّا وَالشَّيْطنُ يَمَسُّهُ حِيْنَ يُولَدُ إِلَّا مَرْيَمَ وَابْعَها قرآن کریم کی ان آیات سے مخالف پاکر کہ الا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ (الحجر : ٤١) وَ إِنَّ عِبَادِى لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطن ( الحجر : ۴۳) وَسَلَامٌ عَلَيْهِ يَوْمَ وُلِدَ۔اس حدیث کی یہ تاویل کر دی کہ ابن مریم اور مریم سے تمام ایسے اشخاص مراد ہیں جو ان دونوں کی صفت پر ہوں۔جیسا کہ شارح بخاری نے اس حدیث کی شرح میں لکھا ہے: قَدْ طَعَنَ الزَّمَخْشَرِی في مَعْلى هَذَا الْحَدِيثِ وَتَوَقَفَ فِي صِحَتِهِ وَقَالَ إِنْ صَحَ فَمَعْنَاهُ كُلُّ مَنْ كَانَ فِي صِفَيهِمَا لِقَوْلِهِ