تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 254
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۵۴ سورةالكهف ہو اور آپ کو خدا نہ بنا یا جاوے اس سے یہ مراد ہرگز نہیں ہے کہ آپ کے فضائل و مراتب ہی سلب کر دیئے القام جلد ۸ نمبر ۴۰ مورخه ۲۴ نومبر ۱۹۰۴ صفحه ۲) جاویں۔دورود اللہ تعالیٰ کے بندوں اور برگزیدوں کے پاس ارادت سے جانا سہل ہے لیکن ارادت سے واپس آنا مشکل ہے کیونکہ ان میں بشریت ہوتی ہے اور ان کے پاس جانے والے لوگوں میں سے اکثر ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنے دل میں اس کی ایک فرضی اور خیالی تصویر بنا لیتے ہیں لیکن جب اس کے پاس جاتے ہیں تو وہ اس کے برخلاف پاتے ہیں جس سے بعض اوقات وہ ٹھو کر کھاتے ہیں اور ان کے اخلاص اور ارادت میں فرق آجاتا ہے۔اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کھول کر بیان کر دیا کہ قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشر مثلکم یعنی کہہ دو کہ بیشک میں تمہارے جیسا ایک انسان ہوں یہ اس لئے کہ وہ لوگ اعتراض کرتے تھے۔وَقَالُوا مَالِ هَذَا الرَّسُولِ يَأْكُلُ الطَّعَامَ وَ يَمْشِي فِي الْأَسْوَاقِ (الفرقان : ۸) اور انہوں نے کہا کہ یہ کیسا رسول ہے کہ کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں بھی چلتا پھرتا ہے۔ان کو آخر یہی جواب دیا گیا کہ یہ بھی ایک بشر ہے اور بشری حوائج اس کے ساتھ ہیں۔اس سے پہلے جس قدر نبی اور رسول آئے وہ بھی بشر ہی تھے۔یہ بات انہوں نے بنظر استخفاف کہی تھی۔وہ جانتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود ہی بازاروں میں عموماً سودا سلف خریدا کرتے تھے۔ان کے دلوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جو نقشہ تھا وہ تو نری بشریت تھی جس میں کھانا پینا سونا چلنا پھرنا وغیرہ تمام امور اور لوازم بشریت کے موجود تھے اس واسطے ان لوگوں نے رد کر دیا۔یہ مشکل اس لئے پیدا ہوتی ہے کہ لوگ اپنے دل سے ہی ایک خیالی تصویر بنا لیتے ہیں کہ نبی ایسا ہونا چاہیے۔اور چونکہ اس تصویر کے موافق وہ اسے نہیں پاتے اس لحاظ سے ٹھوکر کھاتے ہیں۔یہ مرض یہاں تک ترقی کر گیا ہے کہ بعض شیعوں کا بعض ائمہ کی نسبت خیال ہے کہ وہ منہ کے راستے پیدا ہوئے تھے لیکن یہ باتیں ایسی ہیں کہ ایک عقلمند ان کو کبھی قبول نہیں کر سکتا بلکہ ہنسی کرتا ہے۔اصل یہ ہے کہ جو شخص گزر جاوے اس کی نسبت جو چاہو تجویز کرلو کہ وہ آسمان سے اترا تھا یا منہ کے راستہ پیدا ہوا تھا لیکن جوموجود ہیں ان میں بشری کمزوریاں موجود ہیں وہ روتا بھی ہے، کھاتا بھی ہے اور پیتا بھی ہے۔غرض ہر قسم کی بشری ضرورتوں اور کمزوریوں کو اپنے اندر رکھتا ہے اس کو دیکھ کر ان لوگوں کو جو انبیاء ورسل کی حقیقت سے ناواقف ہوتے ہیں گھبراہٹ پیدا ہوتی ہے یہی وجہ تھی جو اللہ تعالی کو ان کے اس قسم کے اعتراضوں کا رد کرنا پڑا اور قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُوحَى اِلی کہنا پڑا یعنی مجھے میں بشریت کے سوا جو امر تمہارے اور میرے