تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 253 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 253

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۵۳ سورةالكهف قیامت تک ہو سکتا ہے۔پھر دیکھو کہ اقتداری معجزات کے ملنے پر بھی حضور کے شامل حال ہمیشہ عبودیت ہی دورود رہی اور بار بار اِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُم ہی فرماتے رہے یہاں تک کہ کلمہ توحید میں اپنی عبودیت کے اقرار کا ایک جزو لازم قرار دیا جس کے بدوں مسلمان مسلمان ہی نہیں ہو سکتا۔سوچو! اور پھر سوچو! پس جس حال میں بادی اکمل کی طرز زندگی ہم کو یہ سبق دے رہی ہے کہ اعلیٰ ترین مقام قرب پر بھی پہنچ کر عبودیت کے اعتراف کو ہاتھ سے نہیں دیا تو اور کسی کا تو ایسا خیال کرنا اور ایسی باتوں کا دل میں لانا ہی فضول اور عبث ہے۔رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحه ۱۴۰) مومن جب خدا سے محبت کرتا ہے تو الہی نور کا اس پر احاطہ ہو جاتا ہے اگر چہ وہ نور اس کو اپنے اندر چھپا لیتا اور اس کی بشریت کو ایک حد تک بھسم کر جاتا ہے جیسے آگ میں پڑا ہوا لوہا ہو جاتا ہے لیکن پھر بھی وہ عبودیت اور بشریت معدوم نہیں ہو جاتی۔یہی وہ راز ہے جو قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُم " کی تہ میں مرکوز ہے۔رود ،، الله بشریت تو ہوتی ہے مگر وہ الوہیت کے رنگ کے نیچے متواری ہو جاتی ہے اور اس کے تمام قومی اور اعضا للہی راہوں میں خدا تعالیٰ کے ارادوں سے پر ہو کر اس کی خواہشوں کی تصویر ہو جاتے ہیں اور یہی وہ امتیاز ہے جو اس کو کروڑ ہا مخلوق کی روحانی تریبت کا کفیل بنادیتا ہے اور ربوبیت تامہ کا ایک مظہر قراردیتا ہے اگر ایسا نہ ہو تو کبھی بھی ایک نبی اس قدر مخلوقات کے لئے ہادی اور راہبر نہ ہو سکے۔چونکہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کل دنیا کے انسانوں کی روحانی تربیت کے لئے آئے تھے اس لئے یہ رنگ حضور علیہ الصلوۃ والسلام میں بدرجہ کمال موجود تھا اور یہی وہ مرتبہ ہے جس پر قرآن کریم نے متعدد مقامات پر حضور کی نسبت شہادت دی ہے اور اللہ تعالیٰ کی صفات کے مقابل اور اسی رنگ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات کا ذکر فرمایا ہے مَا اَرْسَلْنَكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلعَلَمِينَ (الانبیاء : ۱۰۸) اور ایسا ہی فرمایا قُلْ يَايُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللهِ اليكُمْ جَمِيعًا (الاعراف : ۱۵۹)۔رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ ۱۴۳) یکبھی نہ گمان کرنا چاہیے کہ حضرت مسیح یا دوسرے انبیاء ایک معمولی آدمی تھے وہ اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ اور مقرب تھے۔قرآن شریف نے مصلحت اور موقعہ کے لحاظ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت ایک لفظ اس قسم کا بیان فرمایا ہے کہ جہاں آپ کے بہت سے انوار و برکات اور فضائل بیان کئے ہیں وہاں بشر مثلكم بھی کہ دیا ہے مگر یہ اس کے ہر گز معنے نہیں ہیں کہ آنحضرت فی الواقع ہی عام آدمیوں جیسے تھے۔اللہ تعالیٰ نے یہ لفظ آپ کی شان میں اس لئے استعمال فرمایا کہ دوسرے انبیاؤں کی طرح آپ کی پرستش نہ دورود