تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 249
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۴۹ سورة الكهف اب آپ لوگ ذرا غور کر کے دیکھیں کہ یہ مضمون باو اصاحب نے قرآن شریف کی اس آیت سے لیا ہے قُلْ لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِكَلِمَتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَنْ تَنْفَدَ كَلِمَتُ رَبِّي وَ لَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ مددا یعنی کہہ کہ اگر خدا کے کلموں کے لئے سمندر کو سیاہی بنایا جاوے تو سمندر ختم ہو جائے گا قبل اس کے جو خدا کے کلمے ختم ہوں اگر چہ کئی ایک سمند ر اسی کام میں اور بھی خرچ ہو جاویں۔ست بچن، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۲۲۶، ۲۲۷) خدا تعالی کی پاک اور سچی کلام کو شناخت کرنے کی یہ ایک ضروری نشانی ہے کہ وہ اپنی جمیع صفات میں بے مثل ہو کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ جو چیز خدا تعالیٰ سے صادر ہوئی ہے اگر مثلاً ایک جو کا دانہ ہے وہ بھی بینظیر ہے اور انسانی طاقتیں اُس کا مقابلہ نہیں کر سکتیں اور بے مثل ہونا غیر محدود ہونے کو مستلزم ہے یعنی ہر یک چیز اُسی حالت میں بے نظیر بھہر سکتی ہے جبکہ اُس کی عجائبات اور خواص کی کوئی حد اور کنارہ نظر نہ آوے اور جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں یہی خاصیت خدا تعالی کی ہر یک مخلوق میں پائی جاتی ہے مثلاً اگر ایک درخت کے پتے کی عجائبات کی ہزار برس تک بھی تحقیقات کی جائے تو وہ ہزار برس ختم ہو جائے گا مگر اس پتے کے عجائبات ختم نہیں ہوں گے اور اس میں ستر یہ ہے کہ جو چیز غیر محدود قدرت سے وجود پذیر ہوئی ہے اس میں غیر محدود عجائبات اور خواص کا پیدا ہونا ایک لازمی اور ضروری امر ہے اور یہ آیت کہ قُلْ لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِكَلِمَتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَنْ تَنْفَدَ كَلِمَتُ رَبِّي وَ لَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ مَدَدًا۔اپنے ایک معنے کی رو سے اس امر کی مؤید ہے کیونکہ مخلوقات اپنے مجازی معنوں کی رُو سے تمام کلمات اللہ ہی ہیں اور اسی کی بناء پر یہ آیت ہے کہ كَلِمَتُهُ الْقُهَا إلى مَرْيَمَ (النساء : ۱۷۲ )۔کیونکہ ابن مریم میں دوسری مخلوقات میں سے کوئی امر زیادہ نہیں اگر وہ کلمتہ اللہ ہے تو آدم بھی کلمتہ اللہ ہے اور اس کی اولاد بھی کیونکہ ہر یک چیز کشن فَيَكُونَ کے کلمہ سے پیدا ہوئی ہے اسی طرح مخلوقات کی صفات اور خواص بھی کلمات ربی ہیں یعنی مجازی معنوں کی رو سے کیونکہ وہ تمام کلمہ کُن فیکون سے نکلے ہیں۔سو ان معنوں کے رو سے اس آیت کا یہی مطلب ہوا کہ خواص مخلوقات بیحد اور بے نہایت ہیں اور جبکہ ہر یک چیز اور ہر یک مخلوق کے خواص بیحد اور بے نہایت ہیں اور ہر یک چیز غیر محدود عجائبات پر مشتمل ہے تو پھر کیوں کر قرآن کریم جو خدا تعالیٰ کا پاک کلام ہے صرف ان چند معانی میں محدود ہو گا کہ جو چالیس پچاس یا مثلاً ہزار جزو کی کسی تفسیر میں لکھے ہوں یا جس قدر ہمارے سید و مولی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک زمانہ محدود میں بیان کئے ہوں۔نہیں بلکہ