تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 241
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۴۱ سورة الكهف عَنْ مَوَاضِعِهِ (النساء : ۴۷) اس تقریر سے ظاہر ہے کہ یہ تینوں ایک ہی ہیں۔اسی وجہ ہے سورۃ الفاتحہ میں دائمی طور پر یہ دعا سکھلائی گئی کہ تم عیسائیوں کے فتنہ سے پناہ مانگو یہ نہیں کہا کہ تم دجال سے پناہ مانگو پس اگر کوئی اور دقبال ہوتا جس کا فتنہ پادریوں سے زیادہ ہوتا تو خدا کی کلام میں بڑا فتنہ چھوڑ کر قیامت تک یہ دعانہ سکھلائی جاتی کہ تم عیسائیوں کے فتنہ سے پناہ مانگو اور یہ نہ فرمایا جاتا کہ عیسائی فتنہ ایسا ہے کہ قریب ہے کہ اس سے آسمان پھٹ جائیں۔پہاڑ ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں۔بلکہ یہ کہا جاتا کہ دجالی فتنہ ایسا ہے جس سے قریب ہے کہ زمین و آسمان پھٹ جائیں۔بڑے فتنے کو چھوڑ کر چھوٹے فتنہ سے ڈرانا بالکل غیر معقول ہے۔(چشمه معرفت ، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۸۳ تا ۸۷ حاشیه ) سورۃ تکویر میں سب نشانات آخری زمانہ کے ہیں انہی میں سے ایک نشان ہے وَ إِذَا الْعِشَارُ عُظَلَتُ (التکویر :۵) یعنی جب اونٹیاں بر کار چھوڑی جائیں گی۔اس کی تفسیر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وَلَيُتْرَكَنَ الْقِلَاصُ فَلا يُسْغى عَلَيْهَا (صحيح مسلم كتاب الايمان باب وجوب الانبياء برسالة الانبیاء) جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیح موعود بھی اسی زمانہ میں ہوگا بلکہ اس کے ابتدائی زمانے کے یہ نشان ہیں پھر فرمایا وَ اِذَا النُّفُوسُ زُوجَتُ (التکویر (۸) یعنی ایسے اسباب سفر مہیا ہو جا ئیں گے کہ قومیں باوجود اتنی دور ہونے کے آپس میں مل جائیں گی حتی کہ نئی دنیا پرانی دنیا سے تعلقات پیدا کر لے گی۔یا جوج ماجوج کا آنا ، دجال کا نکلنا اور صلیب کا غلبہ یہ بھی اسی زمانے کے نشان ہیں ان کے متعلق لوگوں نے غلط فہمی سے تناقض پیدا کر لیا ہے اور یہ سمجھتے ہیں کہ یہ سب الگ الگ ہیں حالانکہ ان میں سے ہر ایک کی نسبت یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہ تمام روئے زمین پر محیط ہو جائیں گے پس اگر یا جوج ماجوج محیط ہو گئے تو پھر دجال کہاں احاطہ کرے گا اور صلیب کا غلبہ کس جگہ ہو گا ؟ سو یہ کہنے کے کچھ چارہ نہیں کہ یہ سب ایک ہی قوم کے مختلف افراد ہیں اور اگر ان کو ایک بنا دیں تو پھر کوئی مشکل نہ رہے گی۔خدا تعالیٰ نے ان کی نسبت فرمایا ہے وَتَرَكْنَا بَعْضَهُمْ يَوْمَيذٍ يَمُوجُ فِي بَعْضٍ وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَجَعَلَهُمْ جَمْعًا جس سے ظاہر ہے کہ نہایت درجہ کا اختلاف پیدا ہو جائے گا اور سب مذاہب ایک دنگل میں ہو کر نکلیں گے ”تركنا “ کا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آزادی کا زمانہ ہوگا اور یہ آزادی کمال تک پہنچ جائے گی تو اس وقت اللہ تعالی اپنے مامور کی معرفت ان کو جمع کرنے کا ارادہ کرے گا۔پہلے دیکھو جمعنُهُم فرمایا اور ابتدائے عالم کے لئے خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاء (النساء :۲) فرمایا۔