تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 230 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 230

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۳۰ سورة الكهف تبقى لأَحَدٍ يّدُ الْمُقَاوَمَةِ، وَيُدَاسُونَ طرح پیسا جائے گا جس طرح دانے چکی میں پیسے جاتے تَحْتَهُمْ إِلَى السَّاعَةِ الْمَوْعُوْدَةِ۔وَمَن دَخَلَ ہیں اور ان کی وجہ سے زمین میں زلزلے آتے رہیں گے۔فِي هَاتَيْنِ الْحِجَارَتَيْنِ وَلَوْ كَانَ لَهُ مَملكة اس کے پہاڑ حرکت کریں گے۔اور اس کی گمراہی پھیل عُظمى، فَطَحِنَ كَمَا يُطْحَنُ الْحَبُّ فِي الرّخی جائے گی اور اس وقت کوئی دعا قبول نہ ہوگی اور نہ عرش تک وتُزَلْزَلُ بِهِمَا الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا، وَتُحَرِّكُ کوئی آہ وفغاں پہنچے گی اور مسلمانوں پر ایسی مصیبت آئے جِبَالُهَا، وَيُشَاعُ ضَلَالُهَا، وَلَا يُسْمَعُ دُعَاءُ گی جو ان کے اموال، اقبال اور عزتوں کو کھا جائے گی اور وَلَا يَصِلُ إِلَى الْعَرْشِ بُكَا وَيُصِيبُ اسلامی بادشاہوں کے پردے پھاڑ دے گی اور لوگوں پر الْمُسْلِمِينَ مُصِيبَةٌ تَأْكُلُ أَمْوَالَهُمْ ظاہر ہو جائے گا کہ وہ خدا تعالیٰ کی نافرمانی اور جرم کرنے کی وَإِقْبَالَهُمْ وَأَعْرَاضَهُمْ، وَتَنْتِكُ أَسْرَارَ وجہ سے اس کے غضب کے مورد ہیں اور ان کا رعب ، مُلُوكِ الْإِسْلَامِ، وَيَظْهَرُ عَلَى النَّاسِ شوکت اور جلال ان سے چھن جائے گا کیونکہ وہ تقویٰ اختیار أَنَّهُمْ كَانُوا مَوْرِدَ غَضَبِ اللهِ مِن نہیں کرتے۔اگر وہ دشمنوں کا ایک طریق سے مقابلہ کریں الْعِصْيَانِ وَالْإِجْرَامِ وَيُنْزَعُ مِنْهُمْ کے تو سات طریقوں سے ان کے مقابلہ میں شکست رُعْيُهُمْ وَإقْبَالُهُمْ وَشَوكَتُهُمْ وَجَلالُهُمْ بمَا كَانُوا لا يَتَّقُونَ۔وَيُبَارُونَ الْأَعْدَاءَ کھائیں گے کیونکہ وہ نیکو کار نہ تھے وہ صرف لوگوں کے دکھاوے کی خاطر کام کرتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ مِنْ طَرِيقٍ وَيَنْهَزِمُوْنَ مِنْ سَبْعَةِ طُرُق وسلم اور آپ کی سنت کی پیروی نہیں کرتے تھے اور نہ بمَا كَانُوا لَا يُحْسِنُونَ يُرَاءُونَ النَّاسَ وَلَا يَتَّبِعُونَ رَسُولَ اللهِ وَسُنْتَهُ وَلَا يَتَدَيَّنُونَ۔وَإِنْ هُمْ إِلَّا كَالصُّوَرِ لَيْسَ الرُّوحُ فِيهِمْ، فَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمُ الله دینداری اختیار کرتے تھے۔اور وہ محض ڈھانچے ہیں جن میں کوئی روح نہیں۔پس اللہ تعالیٰ ان کی طرف رحمت کی نگاہ سے نہ دیکھے گا اور نہ وہ مدد دیئے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ بِالرّحمَةِ وَلَا هُمْ يُنْصَرُونَ۔وَكَانَ اللهُ يُرِيدُ تو ان پر رجوع برحمت ہونا چاہے گا بشرطیکہ وہ تضرع اختیار أَنْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ إِنْ كَانُوا يَتَضَرَّعُونَ فَمَا کریں مگر نہ انہوں نے تو بہ کی اور نہ تضرع اختیار کیا۔پس تَابُوْا وَمَا تَضَرَّعُوا فَنَزَلَ عَلَى الْمُجْرِمِينَ ان مجرموں پر وبال وارد ہوا سوائے ان لوگوں کے جنہوں وَبَالُهُمْ إِلَّا الَّذِينَ يَخْشَعُونَ۔وَيَرَوْنَ أَيَّام نے خشوع و خضوع اختیار کیا اور وہ مجرمین ملعونوں کی طرح الْمَصَائِبِ وَلَيَالِيَهَا كَمَا رَأَى الْمَلْعُونُونَ شب و روز مصائب کو دیکھیں گے تب اس وقت مسیح موعود