تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 216 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 216

۲۱۶ سورةالكهف تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ( قُلْ سَاتْلُوا عَلَيْكُمْ مِنْهُ ذِكْرًا ) یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ذوالقرنین کا ذکر صرف گذشتہ زمانہ سے وابستہ نہیں بلکہ آئندہ زمانہ میں بھی ایک ذوالقرنین آنے والا ہے اور گزشتہ کا ذکر تو ایک تھوڑی سی برائین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۱۱۹ حاشیه ) بات ہے۔ذوالقرنین کا قصہ ہے اس میں اسی کی پیشگوئی ہے۔چنانچہ قرآن شریف کے پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ذوالقرنین مغرب کی طرف گیا تو اسے آفتاب غروب ہوتا نظر آیا یعنی تاریکی پائی اور ایک گدلا چشمہ اس نے دیکھا وہاں پر ایک قوم تھی پھر مشرق کی طرف چلتا ہے تو دیکھا کہ ایک ایسی قوم ہے جو کسی اوٹ میں نہیں ہے اور وہ دھوپ سے جلتی ہے۔تیسری قوم ملی جس نے یا جوج ماجوج سے بچاؤ کی درخواست کی۔اب یہ بظاہر تو قصہ ہے لیکن حقیقت میں ایک عظیم الشان پیشگوئی ہے جو اس زمانہ سے متعلق ہے۔خدا تعالیٰ نے بعض حقائق تو کھول دیئے ہیں اور بعض مخفی رکھے ہیں اس لئے کہ انسان اپنے قومی سے کام لے اگر انسان نرے منقولات سے کام لے تو وہ انسان نہیں ہو سکتا۔ذوالقرنین اس لئے نام رکھا کہ وہ دوصدیوں کو پائے گا۔اب جس زمانہ میں خدا نے مجھے بھیجا ہے سب صدیوں کو بھی جمع کر دیا۔کیا یہ انسانی طاقت میں ہے کہ اس طرح پر دوصدیوں کا صاحب ہو جاوے۔ہندوؤں کی صدی بھی پائی اور عیسائیوں کی بھی۔مفتی صاحب نے تو کوئی ۶ یا ۷ اصدیاں جمع کر کے دکھائی تھیں۔غرض ذوالقرنین کے معنے ہیں دو صدیاں پانے والا۔اب خدا تعالیٰ نے اس کے لئے تین قوموں کا ذکر کیا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ پہلی قوم جو مغرب میں ہے اور آفتاب وہاں غروب ہوتا ہے اور وہ تاریکی کا چشمہ ہے یہ عیسائیوں کی قوم ہے جس کا آفتاب صداقت غروب ہو گیا اور آسمانی حق اور نور ان کے پاس نہیں رہا۔دوسری قوم اس کے مقابل میں وہ ہے جو آفتاب کے پاس ہے مگر آفتاب سے فائدہ نہیں اُٹھا سکتی۔یہ مسلمانوں کی قوم ہے جن کے پاس آفتاب صداقت قرآن شریف اس وقت موجود ہے مگر دابتہ الارض نے ان کو بے خبر بنا دیا ہے اور وہ اس سے اُن فوائد کو حاصل نہیں کر سکتے۔بجز جلنے اور دُکھ اُٹھانے کے جو ظاہر پرستی کی وجہ سے ان پر آیا۔پس یہ قوم اس طرح پر بے نصیب ہو گئی۔اب ایک تیسری قوم ہے جس نے ذوالقرنین سے التماس کی کہ یاجوج ماجوج کے درے بند کر دے تا کہ وہ ان کے حملوں سے محفوظ ہو جاویں۔وہ ہماری قوم ہے جس نے اخلاص اور صدق دل سے مجھے قبول کیا۔خدا تعالیٰ کی تائیدات سے