تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 212 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 212

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۱۲ سورة الكهف سکیں اس لئے آفتاب صداقت جو طلوع کرے گا اُن کی ہلاکت کا موجب ہو جائے گا۔یہ اُن لوگوں کے لئے ایک مثال ہے جو آفتاب ہدایت کی روشنی تو اُن کے سامنے موجود ہے اور اُس گروہ کی طرح نہیں ہیں جن کا آفتاب غروب ہو چکا ہے لیکن ان لوگوں کو اس آفتاب ہدایت سے بجز اس کے کوئی فائدہ نہیں کہ دھوپ سے چمڑا اُن کا جل جائے اور رنگ سیاہ ہو جائے اور آنکھوں کی روشنی بھی جاتی رہے لیے اس تقسیم سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مسیح موعود کا اپنے فرض منصبی کے ادا کرنے کے لئے تین قسم کا دورہ ہوگا۔اوّل اس قوم پر نظر ڈالے گا جو آفتاب ہدایت کو کھو بیٹھے ہیں اور ایک تاریکی اور کیچڑ کے چشمہ میں بیٹھے ہیں۔دوسرا دورہ اس کا ان لوگوں پر ہوگا جو ننگ دھڑنگ آفتاب کے سامنے بیٹھے ہیں۔یعنی ادب سے اور حیا سے اور تواضع سے اور نیک ظن سے کام نہیں لیتے نے ظاہر پرست ہیں گویا آفتاب کے ساتھ لڑنا چاہتے ہیں سو وہ بھی فیض آفتاب سے بے نصیب ہیں اور ان کو آفتاب سے بجز جلنے کے اور کوئی حصہ نہیں۔یہ ان مسلمانوں کی طرف اشارہ ہے جن میں مسیح موعود ظاہر تو ہوا مگر وہ انکار اور مقابلہ سے پیش آئے اور حیا اور ادب اور حسن ظن سے کام نہ لیا اس لئے سعادت سے محروم رہ گئے بعد اس کے اللہ تعالی قرآن شریف میں فرماتا ہے ثُمَّ اتَّبَعَ سَبَبان حَتَّى إِذَا بَلَغَ بَيْنَ السَّدَّيْنِ وَجَدَ مِنْ دُونِهِمَا قَوْمًا لَا يَكَادُونَ يَفْقَهُونَ قَوْلًا قَالُوا يَذَا الْقَرْنَيْنِ إِنَّ يَأْجُوجَ وَ ماجوجَ مُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ فَهَلْ نَجْعَلُ لَكَ خَرْجًا عَلَى أَنْ تَجْعَلَ بَيْنَنَا وَ بَيْنَهُمْ سَنَّا قَالَ مَا مَكَنِي ورود فِيهِ رَبِّي خَيْرٌ فَاعِينُونِي بِقُوَّةٍ أَجْعَلْ بَيْنَكُمْ وَ بَيْنَهُمْ رَدُ مَا لا أَتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ حَتَّى إِذَا سَاوَى بَيْنَ الصَّدَفَيْنِ قَالَ انْفُخُوا حَتَّى إِذَا جَعَلَهُ نَارًا قَالَ أَتُونِي أَفْرِغْ عَلَيْهِ قِطْرانُ فَمَا اسْطَاعُوا أَنْ يَظْهَرُوهُ وَ مَا اسْتَطَاعُوا لَهُ نَقْبَاتِ قَالَ هَذَا رَحْمَةً مِنْ رَبِّي فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ رَبِّي جَعَلَهُ دَكَّاءَ وَ كَانَ وَعْدُ رَبِّي حَقَّالُ وَتَرَكْنَا بَعْضَهُمْ يَوْمَبِذٍ يَمُوجُ فِي بَعْضٍ وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَجَمَعْتُهُمْ جَمْعَاهُ وَعَرَضْنَا جَهَنَّمَ يَوْمَيذٍ لِلْكَفِرِينَ عَرَضَانَ الَّذِينَ كَانَتْ أَعْيُنَهُمْ فِي غِطَاءٍ عَنْ ذِكْرِى وَكَانُوا لَا يَسْتَطِيعُونَ سَبْعًان أَفَحَسِبَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنْ يَتَّخِذُوا عِبَادِى مِنْ دُونِى اَوْلِيَاء إِنَّا اَعْتَدْنَا جَهَنَّمَ لے اس جگہ خدا تعالی کو یہ ظاہر کرنا مقصود ہے کہ مسیح موعود کے وقت تین گروہ ہوں گے ایک گروہ تفریط کی راہ لے گا جو روشنی کو بالکل کھو بیٹھے گا اور دوسرا گروہ افراط کی راہ اختیار کرے گا جو تواضع اور انکسار اور فروتنی سے روشنی سے فائدہ نہیں اٹھائے گا بلکہ خیرہ طبع ہو کر مقابلہ کرنے والے کی طرح روحانی دھوپ کے سامنے محض برہنہ ہونے کی حالت میں کھڑا ہوگا مگر تیسرا گروہ میانہ حالت میں ہوگا وہ مسیح موعود سے چاہیں گے کہ کسی طرح یا جوج ماجوج کے حملوں سے بچ جائیں اور یا جوج ماجوج اچیچ کے لفظ سے نکلا ہے یعنی وہ قوم جو آگے کے استعمال کرنے میں ماہر ہیں۔