تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 211 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 211

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۱۱ سورة الكهف حقانیت ایک کیچڑ کے چشمہ میں غروب ہو گیا اور اس غلیظ چشمہ اور تاریکی کے پاس ایک قوم کو پائے گا جو مغربی قوم کہلائے گی یعنی مغربی ممالک میں عیسائیت کے مذہب والوں کو نہایت تاریکی میں مشاہدہ کرے گا۔نہ اُن کے مقابل پر آفتاب ہو گا جس سے وہ روشنی پاسکیں اور نہ اُن کے پاس پانی صاف ہوگا جس کو وہ بیویں یعنی ان کی علمی و عملی حالت نہایت خراب ہوگی اور وہ روحانی روشنی اور روحانی پانی سے بے نصیب ہوں گے۔تب ہم ذوالقرنین یعنی مسیح موعود کو کہیں گے کہ تیرے اختیار میں ہے چاہے تو ان کو عذاب دے یعنی عذاب نازل ہونے کے لئے بددعا کرے (جیسا کہ احادیث صحیحہ میں مروی ہے ) یا اُن کے ساتھ حسن سلوک کا شیوہ اختیار کرے تب ذوالقرنین یعنی مسیح موعود جواب دے گا کہ ہم اُسی کو سزا دلانا چاہتے ہیں جو ظالم ہو۔وہ دنیا میں بھی ہماری بد دعا سے سزا یاب ہوگا اور پھر آخرت میں سخت عذاب دیکھے گا۔لیکن جو شخص سچائی سے منہ نہیں پھیرے گا اور نیک عمل کرے گا اس کو نیک بدلہ دیا جائے گا اور اس کو انہیں کاموں کی بجا آوری کا حکم ہوگا جو سہل ہیں اور آسانی سے ہو سکتے ہیں۔غرض یہ مسیح موعود کے حق میں پیشگوئی ہے کہ وہ ایسے وقت میں آئے گا جبکہ مغربی ممالک کے لوگ نہایت تاریکی میں پڑے ہوں گے اور آفتاب صداقت اُن کے سامنے سے بالکل ڈوب جائے گا اور ایک گندے اور بد بودار چشمہ میں ڈوبے گا یعنی بجائے سچائی کے بدبودار عقائد اور اعمال اُن میں پھیلے ہوئے ہوں گے۔اور وہی ان کا پانی ہوگا جس کو وہ پیتے ہوں گے۔اور روشنی کا نام ونشان نہیں ہوگا تاریکی میں پڑے ہوں گے اور ظاہر ہے کہ یہی حالت عیسائی مذہب کی آج کل ہے جیسا کہ قرآن شریف نے ظاہر فرمایا ہے اور عیسائیت کا بھاری مرکز ممالک مغربیہ ہیں۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ثُمَّ اتَّبَعَ سَبَبًا حَتَّى إِذَا بَلَغَ مَطلِعَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَطْلُعُ عَلَى قَوْمٍ لَّمْ نَجْعَلْ لَهُمْ مِنْ دُونِهَا سِتَرَانِ كَذلِكَ وَقَدْ أَحَطَنَا بِمَا لَدَيْهِ خُبْرًان یعنی پھر ذوالقرنین جو مسیح موعود ہے جس کو ہر ایک سامان عطا کیا جائے گا ایک اور سامان کے پیچھے پڑے گا یعنی ممالک مشرقیہ کے لوگوں کی حالت پر نظر ڈالے گا اور وہ جگہ جس سے سچائی کا آفتاب نکلتا ہے اس کو ایسا پائے گا کہ ایک ایسی نادان قوم پر آفتاب نکلا ہے جن کے پاس دھوپ سے بچنے کے لئے کوئی بھی سامان نہیں یعنی وہ لوگ ظاہر پرستی اور افراط کی دھوپ سے جلتے ہوں گے اور حقیقت سے بے خبر ہوں گے اور ذوالقرنین یعنی مسیح موعود کے پاس حقیقی راحت کا سامان سب کچھ ہو گا جس کو ہم خوب جانتے ہیں مگر وہ لوگ قبول نہیں کریں گے اور وہ لوگ افراط کی دھوپ سے بچنے کے لئے کچھ بھی پناہ نہیں رکھتے ہوں گے۔نہ گھر، نہ سایہ دار درخت ، نہ کپڑے جو گرمی سے بچا