تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 209
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۰۹ سورة الكهف نَقيَّان قَالَ هَذَا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّي فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ رَبِّي جَعَلَهُ دَعَاءَ ۚ وَكَانَ وَعْدُ رَبِّي حَقَّاتُ وَتَرَكْنَا بَعْضَهُمْ يَوْمَبِذٍ يَمُوجُ فِي بَعْضٍ وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَجَمَعَنَهُمُ جمعان وَ عَرَضْنَا جَهَنَّمَ يَوْمَينِ لِلْكَفِرِينَ عَرَضَانَ الَّذِينَ كَانَتْ أَعْيُنَهُمْ فِي غِطَاء عَن ذكرى وَكَانُوا لَا يَسْتَطِيعُونَ سَبْعان خدا تعالیٰ نے میرا نام ذوالقرنین بھی رکھا کیونکہ خدا تعالیٰ کی میری نسبت یہ وحی مقدس که جری اللہ فی محلل الانبیاء۔جس کے یہ معنے ہیں کہ خدا کا رسول تمام نبیوں کے پیرائیوں میں، یہ چاہتی ہے کہ مجھ میں ذوالقرنین کے بھی صفات ہوں کیونکہ سورہ کہف سے ثابت ہے کہ ذوالقرنین بھی صاحب وحی تھا۔خدا تعالیٰ نے اس کی نسبت فرمایا ہے قُلْنَا ذَا الْقَرْنَيْنِ۔پس اس وحی الہی کی رُو سے کہ جری اللہ فی حُلّل الانبیاء اس اُمت کے لئے ذوالقرنین میں ہوں۔اور قرآن شریف میں مثالی طور پر میری نسبت پیشگوئی موجود ہے مگر اُن کے لئے جو فراست رکھتے ہیں۔یہ تو ظاہر ہے کہ ذوالقرنین وہ ہوتا ہے جو دوصدیوں کو پانے والا ہو۔اور میری نسبت یہ عجیب بات ہے کہ اس زمانہ کے لوگوں نے جس قدر اپنے اپنے طور پر صدیوں کی تقسیم کر رکھی ہے ان تمام تقسیموں کے لحاظ سے جب دیکھا جائے تو ظاہر ہو گا کہ میں نے ہر ایک قوم کی دوصدیوں کو پالیا ہے۔میری عمر اس وقت تخمینا ۶۷ سال ہے پس ظاہر ہے کہ اس حساب سے جیسا کہ میں نے دو ہجری صدیوں کو پالیا ہے۔ایسا ہی دو عیسائی صدیوں کو بھی پالیا ہے اور ایسا ہی دو ہندی صدیوں کو بھی جن کا سن بکرماجیت سے شروع ہوتا ہے اور میں نے جہاں تک ممکن تھا قدیم زمانہ کے تمام ممالک شرقی اور غربی کی مقرر شدہ صدیوں کا ملاحظہ کیا ہے کوئی قوم ایسی نہیں جس کی مقرر کردہ صدیوں میں سے دوصد میں میں نے نہ پائی ہوں۔اور بعض احادیث میں بھی آچکا ہے کہ آنے والے مسیح کی ایک یہ بھی علامت ہے کہ وہ ذوالقرنین ہوگا۔غرض بموجب نص وحی الہی کے میں ذوالقرنین ہوں اور جو کچھ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف کی ان آیتوں کی نسبت جو سورہ کہف میں ذوالقرنین کے قصہ کے بارے میں ہیں میرے پر پیشگوئی کے رنگ میں معنی کھولے ہیں۔میں ذیل میں ان کو بیان کرتا ہوں مگر یادر ہے کہ پہلے معنوں سے انکار نہیں ہے وہ گذشتہ سے متعلق ہیں اور یہ آئندہ کے متعلق۔اور قرآن شریف صرف قصہ گو کی طرح نہیں ہے بلکہ اس کے ہر ایک قصہ کے نیچے ایک پیشگوئی ہے۔اور ذوالقرنین کا قصہ مسیح موعود کے زمانہ کے لئے ایک پیشگوئی اپنے اندر رکھتا