تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 206
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۰۶ سورةالكهف ہے۔اور دجالوں کو مہدی سمجھا جاتا ہے۔اور دنیا مخلوق اللہ کی نظر میں بہت پیاری معلوم ہوتی ہے جس کی تحصیل کے لئے ایک دوسرے پر سبقت کرتے ہیں۔اور دین ان کی نظر میں ذلیل اور خوار ہو جاتا ہے۔ایسے وقتوں میں وہی لوگ حجت اسلام ظہر تے ہیں جن کا الہام یقینی اور قطعی ہوتا ہے اور جو ان کامل افراد کے قائم مقام ہوتے ہیں جو اُن سے پہلے گزر چکے ہیں۔اب خلاصہ کلام یہ ہے کہ الہام یقینی اور قطعی ایک واقعی صداقت ہے جس کا وجود افراد کا ملہ امت محمدیہ میں ثابت ہے اور انہیں سے خاص ہے۔ہاں یہ سچ بات ہے کہ رسولوں کا الہام بہت ہی درخشاں اور روشن اور اجیلی اور اقوی اور اصلی اور اعلیٰ اور مراتب یقین کے انتہائی درجہ پر ہوتا ہے اور آفتاب کی طرح چمک کر ہر ایک ظلمت کو اٹھا دیتا ہے۔مگر اولیاء کے الہاموں میں سے جب تک معافی کسی الہامی عبارت کے مشتبہ ہوں یا وہ الہام ہی مشتبہ اور مخفی ہو تب تک وہ ایک امرظنی ہوگا اور ولی کا الہام اسی وقت حد قطع اور یقین تک پہنچے گا کہ جب ضعیف الہاموں کی قسم میں سے نہ ہو بلکہ اپنی کامل روشنی کے ساتھ نازل ہو اور بارش کی طرح متواتر برس کر اور اپنے نوروں کو قومی طور پر دکھلا کر مہم کے دل کو کامل یقین سے پر کر دے اور مختلف تقریروں اور مختلف لفظوں میں اتر کر معنے اور مطلب کو بکلی کھول دے اور عبارت کو متشابہات میں سے بکل الوجوہ باہر کر دے اور متواتر دعاؤں اور سوالوں کے وقت خود خداوند تعالیٰ ان معانی کا قطعی اور یقینی ہونا متواتر اجابتوں اور جوابوں کے ذریعہ سے بوضاحت تمام بیان فرمادے۔جب کوئی الہام اس حد تک پہنچ جائے تو وہ کامل النور اور قطعی اور یقینی ہے اور جو لوگ کہتے ہیں کہ اصلاً الہام اولیاء کو قطع اور یقین کی طرف راہ نہیں۔وہ معرفت کامل سے سخت بے نصیب ہیں۔وَمَا قَدَرُوا اللهَ حَقَّ قديم (الانعام :٩٣) - اللهُم أَصْلِحْ أُمَّةً مُحَمَّدٍ - بر اثمان احمد یہ چہار، حصص، روحانی خزائن جلد اصلحه ۲۵۶ تا ۲۶۰ حاشیه در حاشیه نمبر۱) خدائے تعالیٰ کے کاموں کا کوئی انتہا نہیں پاسکتا۔بنی اسرائیل میں حضرت موسیٰ علیہ السلام عظیم الشان نبی گزرے ہیں جن کو خدا تعالیٰ نے توریت دی اور جن کی عظمت اور وجاہت کی وجہ سے بلعم باعور بھی اُن کا مقابلہ کر کے تحت الثریٰ میں ڈالا گیا اور کتے کے ساتھ خدا نے اس کی مشابہت دی وہی موسیٰ ہے جس کو ایک بادیہ نشین شخص کے علوم روحانیہ کے سامنے شرمندہ ہونا پڑا اور اُن غیبی اسرار کا کچھ پتہ نہ لگا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَوَجَدَا عَبْدًا مِنْ عِبَادِنَا أَتَيْنَهُ رَحْمَةً مِنْ عِنْدِنَا وَ عَلَيْنَهُ مِنْ لَّدُنَا عِلْمًا - (حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۵۷ حاشیه )