تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 200
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة الكهف عَلَى النَّفْسِ الَّذِي كَانَ في غَيْرِ حَلِهِ أَوِ کچھ کم نہ کیا اور لفظ ظلم کا ایسی کمی پر اطلاق کرنا جو غیر محل الرِّيَادَةِ الَّتِي لَيْسَتْ فِي مَوْضِعِهَا أَمْرُ شَائِع ہو یا ایسی زیادتی پر جو بے موقع ہے ایک ایسا امر ہے جو مُتَعَارِفُ فِي الْقَوْمِ، وَهُذَا هُوَ الدَّجْلُ كَمَا لَا قوم میں شائع متعارف ہے اور اسی کا نام دجالیت ہے يخفى عَلَى الْمُتَبَفِرِينَ جیسا کہ سمجھ دار لوگوں پر پوشیدہ نہیں۔(نور الحق حصہ اول، روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۷۹ تا ۸۲) ( ترجمہ اصل کتاب سے ) وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ أَمْرِ رَبِّهِ اَفَتَتَّخِذُونَهُ وَذُرِّيَّتَةً اَوْلِيَاء مِنْ دُونِي وَهُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ بِئْسَ الظلمين بدلا اہلِ عرب اس قسم کے استثنا کرتے ہیں۔صرف ونحو میں بھی اگر دیکھا جاوے تو ایسے استثناء بکثرت ہوا کرتے ہیں اور ایسی نظیریں موجود ہیں جیسے کہا جاوے کہ میرے پاس ساری قوم آئی مگر گدھا۔اس سے یہ سمجھنا کہ ساری کی ساری قوم جنس حمار میں سے تھی غلط ہے۔كَانَ مِنَ الْجِن کے بھی یہ معنے ہوئے کہ وہ فقط ابلیس ہی قوم جن میں سے تھا ملائکہ میں سے نہیں تھا ملائک ایک الگ پاک جنس ہے اور شیطان الگ۔ملائکہ اور ابلیس کا راز ایسا مخفی در مخفی ہے کہ بجز آمَنَا وَصَدَّقنا کے انسان کو چارہ نہیں۔اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو اقتدار و توفیق نہیں دی مگر وسوسہ اندازی میں وہ محرک ہے جیسے ملائکہ پاک تحریکات کے محرک ہیں ویسے ہی شیطان ناپاک جذبات کا محرک ہے۔ملائکہ کی منشاء ہے کہ انسان پاکیزہ ہو مطہر ہو اور اس کے اخلاق عمدہ ہوں اور اس کے بالمقابل شیطان چاہتا ہے کہ انسان گندہ اور ناپاک ہو۔اصل بات یہ ہے کہ قانونِ الہی ملائکہ و ابلیس کی تحریکات کا دوش بدوش چلتا ہے لیکن آخر کا ر ارادہ الہی غالب آجاتا ہے گویا پس پردہ ایک جنگ ہے جو خود بخود جاری رہ کر آخر قادر مقتدر حق کا غلبہ ہو جاتا ہے اور باطل کی شکست۔چار چیزیں ہیں جن کی کنہ ور از کو معلوم کرنا انسان کی طاقت سے بالا تر ہے اول۔اللہ جل شانہ، دویم۔روح ، سویم۔ملائکہ، چہارم۔ابلیس۔جو شخص ان چہاروں میں سے خدا تعالیٰ کے وجود کا قائل ہے اور اس کے صفات الوہیت پر ایمان رکھتا ہے۔ضرور ہے کہ وہ ہر سہ اشیاء روح و ملائکہ وا بیس پر ایمان لائے۔۔۔۔انسان کو ہر حال میں رضائے الہی پر چلنا چاہیے اور کارخانہ الہی میں دخل در معقولات نہیں دینا چاہیے۔