تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 198 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 198

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۹۸ سورة الكهف جو تقویٰ سے دور اور کفار اور مشرکین اور نافرمانوں کا شعار ہے بلکہ وہ ظلم مراد ہے جو سلوک کے ابتدائی حالات میں متقیوں کے لئے شرط ختم ہے یعنی جذبات نفسانی پر حملہ کرنا اور بشریت کی ظلمت کو اپنے نفس سے کم کرنے کے لئے کوشش کرنا جیسا کہ اس دوسری آیت میں بھی کم کرنے کے ہی معنی ہیں اور وہ یہ ہے وَلَمْ تَظْلِمُ مِنْهُ شَيْئًا أَى وَلَمْ تَنفُض دیکھو قاموس اور صحاح اور صراح جو ظلم کے معنے کم کرنے کے بھی لکھے ہیں اور اس آیت کے یہی معنے گئے ہیں یعنی وَ لَمْ تَنْقُصُ۔آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۶۶) وَأُلْقِي في رُوعي أَنَّ الْمَسِيحَ سَلَمی اور میرے دل میں ڈالا گیا ہے کہ حضرت مسیح نے الْأَخَرِيْنَ مِنَ النَّصَارَى الشَّجَالِينَ لا آخری زمانہ کے نصاریٰ کا نام دجال رکھا اور ایسا نام الْأَوَّلِينَ، وَإِنْ كَانَ الْأَوَّلُونَ أَيْضًا دَاخِلِينَ پہلوں کا نہیں رکھا اگر چہ پہلے بھی گمراہوں میں داخل في الضَّالِّينَ الْمُحَرَّفِينَ۔وَالشعر في ذلِك أَنَّ تھے اور کتابوں کی تحریف کرنے والے تھے۔سواس الْأَوَّلِينَ مَا كَانُوا مُجْعَدِينَ سَاعِین میں بھید یہ ہے کہ پہلے نصاری خلق اللہ کے گمراہ کرنے لإِضْلالِ الْخَلْقِ كَمَثَلِ الْآخِرِينَ بَلْ مَا کی ایسی سخت کوششیں نہیں کرتے تھے جیسی پچھلوں كَانُوا عَلَيْهَا قَادِرِيْنَ وَكَانُوا كَرَجُلٍ مُصْفَدٍ نے کیں بلکہ وہ ان کوششوں پر قادر نہیں تھے اور ایسے فِي السَّلَاسِلِ وَمُقَرَّنِ فِي الْحِبَالِ تھے جیسے کوئی زنجیروں میں جکڑا ہوا اور قیدی ہو۔مگر وہ وَكَالْمَسْجُونِينَ وَأَمَّا الَّذِينَ جَاءُوا لوگ جو ان کے بعد ہمارے اس زمانہ میں آئے وہ بَعْدَهُمْ فِي زَمَانِنَا هَذَا فَفَاقُوْا أَسْلَافَهُمْ وجالیت میں اپنے پہلے بزرگوں سے بڑھ گئے اور خدا في الرَّجْلِ وَالْكِنْبِ، وَوَضَعَ اللهُ عَنْهُمْ تعالٰی نے اپنے بندوں کا امتحان کرنے کے لئے ان کی أَيَا صِرَهُمْ وَأَغْلَالَهُمْ، وَنَجَاهُمُ عَن ہتھ کڑیوں اور ان کے طوق گردنوں کو ان سے الگ کر السَّلَاسِلِ الَّتِي كَانَتْ في أَرْجُلِهِمُ ابْتِلا دیا اور ان زنجیروں سے ان کو نجات دے دی جو ان مِنْ عِنْدِهِ، وَكَانَ قَدْرًا مَّقْضِيَّا من رب کے پیروں میں تھے اور یہی ابتداء سے مقدر تھا اور ایک الْعَالَمِينَ۔وَكَانَ قَدْرُ الله أَن يَبْرُزُوا بَعْدَ ہزار ہجری گزرنے کے بعد ان کا خروج شروع ہوا أَلْفِ سَنَةٍ مِّنَ الْهِجْرَةِ حَتَّى ظَهَرُوا فِي هَذِهِ یہاں تک کہ ان دنوں میں وہ ایک ایسے دیو کی طرح الْأَيَّامِ كَغُوْلٍ خُلِصَ وَأُخْرِجُ مِن السّجْنِ ظاہر ہوئے جو زندان سے نکلا اور اپنی سواری پر سوار ہوا