تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 194
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۹۴ سورةالكهف۔گروہ کو مرا درکھا ہے اور عوج کے لفظ سے اس جگہ مخلوق کو شریک الباری ٹھہرانے سے مراد ہے۔جس طرح عیسائیوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کو ٹھہرایا ہے اور اسی لفظ سے نہج اعوج مشتق ہے اور نہج اعوج سے وہ درمیانی زمانہ مراد ہے جس میں مسلمانوں نے عیسائیوں کی طرح حضرت مسیح کو بعض صفات میں شریک الباری ٹھہرا دیا۔اس جگہ ہر ایک انسان سمجھ سکتا ہے کہ اگر دجال کا بھی کوئی علیحدہ وجود ہوتا تو سورہ فاتحہ میں اس کے فتنہ کا بھی ذکر ضرور ہوتا اور اس کے فتنہ سے بچنے کے لئے بھی کوئی علیحدہ دعا ہوتی مگر ظاہر ہے کہ اس جگہ یعنی سورہ فاتحہ میں صرف مسیح موعود کو ایذا دینے سے بچنے کے لئے اور نصاریٰ کے فتنے سے محفوظ رہنے کے لئے دعا کی گئی ہے حالانکہ بموجب خیالات حال کے مسلمانوں کا دجال ایک اور شخص ہے اور اس کا فتنہ تمام فتنوں سے بڑھ کر ہے تو گویا نعوذ باللہ خدا بھول گیا کہ ایک بڑے فتنہ کا ذکر بھی نہ کیا اور صرف دوفتنوں کا ذکر کیا ایک اندرونی یعنی مسیح موعود کو یہودیوں کی طرح ایذا دینا دوسرے عیسائی مذہب اختیار کرنا۔یا درکھو اور خوب یاد رکھو کہ سورۃ فاتحہ میں صرف دوفتوں سے بچنے کے لئے دعا سکھلائی گئی ہے (۱) اول یہ فتنہ کہ اسلام کے مسیح موعود کو کا فرقرار دینا، اس کی توہین کرنا ، اس کی ذاتیات میں نقص نکالنے کی کوشش کرنا، اس کے قتل کا فتویٰ دینا جیسا کہ آیت غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ میں انہیں باتوں کی طرف اشارہ ہے۔(۲) دوسرے نصاری کے فتنے سے بچنے کے لئے دعا سکھلائی گئی اور سورۃ کو اسی کے ذکر پر ختم کر کے اشارہ کیا گیا ہے کہ فتنہ نصاری ایک سیل عظیم کی طرح ہوگا۔اس سے بڑھ کر کوئی فتنہ نہیں۔(تحفہ گولڑویہ ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۲۱۲،۲۱۰) إِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْأَرْضِ زِينَةً تَهَا لِنَبْلُوَهُمْ أَيُّهُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا ہم نے ہر یک چیز کو جو زمین پر ہے زمین کی زینت بنا دیا ہے تا جولوگ صالح آدمی ہیں بمقابلہ برے آدمیوں کے ان کی صلاحیت آشکارا ہو جائے اور کثیف کے دیکھنے سے لطیف کی لطافت کھل جائے کیونکہ ضد لے نسائی نے ابی ہریرہ سے دجال کی صفت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث لکھی ہے يَخْرُجُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ دَجَالٌ يَقْتُلُونَ الدُّنْيَا بِالدِّينِ يَلْبَسُونَ لِلنَّاسِ جُلُودَ الضَّأْنِ الْسِنُهُمْ أَحْلَى عَنِ الْعَدْلِ وَقُلُوبُهُمْ قُلُوبُ الشَّيَابِ يَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ أَبِي يَفْتَرُونَ أَمر عَلَى يَجْتَرفون ان یعنی آخری زمانہ میں ایک گروہ دجال نکلے گا۔وہ دنیا کے طالبوں کو دین کے ساتھ فریب دیں گے یعنی اپنے مذہب کی اشاعت میں بہت سا مال خرچ کریں گے۔بھیڑوں کا لباس پہن کر آئیں گے۔ان کی زبانیں شہد سے زیادہ میٹھی ہوں گی اور دل بھیڑیوں کے ہوں گے۔خدا کہے گا کہ کیا تم میرے علم کے ساتھ مغرور ہو گئے اور کیا تم میرے کلمات میں تحریف کرنے لگے۔( کنز العمال جلد ۷ صفحہ ۱۷۴) منہ