تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 188 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 188

الَّا بَشَرًا رَسُولاً - ۱۸۸ سورۃ بنی اسراءیل تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اللہ تعالی نے اقتراح کو منع کیا ہے اور تجربہ بتاتا ہے کہ اقتراح کرنے والے لوگ ہمیشہ ہدایت سے محروم ہی رہتے ہیں کیونکہ خدا نہ ان کی مرضی اور خواہشات کا تابع ہوتا ہے اور نہ وہ ہدایت پاتے ہیں۔دیکھ لو! جب نشانات اور معجزات اقتراحی رنگ میں طلب کئے گئے جب ہی یہی جواب ملا قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنتُ الحام جلد ۱۲ نمبر ۲۴ مورخه ۱٫۲اپریل ۱۹۰۸ صفحه ۳) وہ ( حضرت عیسی علیہ السلام۔ناقل ) بے شک خدا کے مقربین میں سے تھے۔ان پر خدا کا فضل تھا۔وہ اللہ تعالیٰ کی نبوت سے ممتاز تھے۔مگر ان کے لئے کوئی ایسی خصوصیت مقرر کرنا جو دوسرے انبیاء میں نہ ہو ٹھیک نہیں۔کہتے ہیں کہ آسمان پر کئی صدیوں سے بجسده العصری متمکن ہے حالانکہ آنحضرت سے کفار نے قسمیں کھا کھا کر کہا کہ ہم ضرور مان لیں گے اگر آپ ہمارے سامنے آسمان پر چڑھ جاویں۔اس کا جواب جو دیا گیا وہ یہ تھا کہ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًا رَسُولًا۔جب اللہ تعالیٰ نے ابتداء سے ایک قانون مقرر کر دیا کہ فِيهَا تَحيَونَ (الاعراف : ۲۶) تو پھر اللہ اپنی سنت کے خلاف کیوں کرتا۔اگر یہ عقیدہ ( عیسی کے مع جسم آسمان پر چڑھ جانے کا ) اس وقت کے مسلمانوں میں ہوتا تو کافروں کا حق تھا کہ انہیں یہ کہہ کر ملزم کریں کیا وجہ ہے ایک نبی کے لئے یہ امر جائز قرار دیتے ہیں اور دوسرے کے لئے نہیں۔حالانکہ تم اس بات کے بھی قائل ہو کہ آنحضرت صلعم تمام نبیوں سے اور بالخصوص حضرت عیسی سے افضل اور جامع کمالات نبوت ہیں۔غرض یہ زندہ آسمان پر چڑھ جانے کا ذکر قرآن شریف میں نہیں ہے بلکہ قرآن تو اس عقیدہ کی تردید کرتا ہے۔یہ آیت ہے جو میں نے پڑھی ہے حدیث نہیں کہ اس پر ضعیف یا وضعی ہونے کا اعتراض ہو سکتا ہو سارا قرآن مجید اول سے آخر تک دیکھ لو عیسی کے اب تک زندہ رہنے کا ثبوت نہ پاؤ گے۔( بدر جلد نمبر ۱۹ ۲۰ مورخه ۲۴ رمئی ۱۹۰۸ء صفحه ۴) قُلْ كَفَى بِاللهِ شَهِيدًا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ إِنَّهُ كَانَ بِعِبَادِهِ خَبِيرًا بَصِيرًان یا درکھو محض الہام جب تک اس کے ساتھ فعلی شہادت نہ ہو ہر گز کسی کام کا نہیں۔دیکھو جب کفار کی طرف سے اعتراض ہوا کستَ مُرسَلاً تو جواب دیا گیا گفی بِاللهِ شَهِيدٌ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ یعنی عنقریب خدا کی فعلی شہادت میری صداقت کو ثابت کر دے گی۔پس الہام کے ساتھ فعلی شہادت بھی چاہیے۔( بدر جلد ۶ نمبر ۱۷ مورخہ ۲۵ را پریل ۱۹۰۷ء صفحه ۹)