تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 187 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 187

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸۷ سورة بنی اسراءیل جواب ملا قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًا رَسُولاً یعنی ان کو کہہ دو کہ ایسا معجزہ اللہ تعالیٰ کے قول کے خلاف ہے اور وہ اس سے پاک ہے کہ اپنے پہلے قول کے خلاف کرے۔الحکم جلد ۹ نمبر ۳۵ مورخه ۱۰ را کتوبر ۱۹۰۵ صفحه ۹) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تو جب آسمان پر جانے کا معجزہ مانگا جاوے تو انہیں قُلْ سُبْحَانَ رَبّی کا جواب ملے اور مسیح کے لئے تجویز کر لیا جاوے کہ وہ آسمان پر چڑھ گئے۔ایسی خصوصیتوں کا نتیجہ یہی ہوتا ہے کہ اسے خدا بنا یا جاوے پھر تو حید کہاں رہی۔انتقام جلد ۹ نمبر ۳۵ مورخه ۱۰ راکتوبر ۱۹۰۵ صفحه ۱۲) آیت قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلا بَشَرًا رَسُولاً صبح کو زندہ آسمان پر جانے سے روکتی ہے کیونکہ جب کفار نے آپ سے آسمان پر چڑھ جانے کا معجزہ مانگا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہی جواب دیا کہ قل سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًا رَسُولاً یعنی میرا رب اس وعدہ خلافی سے پاک ہے جو ایک مرتبہ تو وہ 199991 انسان کے لئے یہ قرار دے کہ وہ اسی زمین میں پیدا ہوا اور یہاں ہی مرے گا فِيهَا تَحْيَونَ وَ تمُوتُونَ (الاعراف : ۲۲ )۔میں تو ایک بشر رسول ہوں یعنی وہ بشریت میرے ساتھ موجود ہے جو آسمان پر نہیں جا سکتی اور دراصل کفار کی غرض اس سوال سے یہی تھی چونکہ وہ پہلے یہ سن چکے تھے کہ انسان اسی دنیا میں جیتا اور مرتا ہے اس لئے انہوں نے موقع پا کر یہ سوال کیا جس کا جواب ان کو ایسادیا گیا کہ ان کا منصوبہ خاک میں مل گیا۔پس یہ طے شدہ مسئلہ ہے کہ مسیح وفات پاچکے۔(احکام جلد ۱۰ نمبر ۶ مورخه ۱۷ رفروری ۱۹۰۶ صفحه ۳) کہہ دے میرا رب پاک ہے۔میں تو ایک انسان رسول ہوں انسان اس طرح اُڑ کر کبھی آسمان پر نہیں جاتے۔یہی سنت اللہ قدیم سے جاری ہے۔الحکم جلد ۱۰ نمبر ۲۱ مورخه ۷ ارجون ۱۹۰۶ صفحه ۴) ہمارے نبی کریم صلعم پر جب کفار نے سوال کیا تھا کہ آؤ توفى في السَّمَال یعنی آسمان پر چڑھ جاؤ تو خدا نے یہی جواب دیا تھا کہ بشر آسمان پر نہیں جا سکتا جیسے فرما یا قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًا رَسُولاً اگر بشر آسمان پر جا سکتا تھا تو چاہیے تھا کہ کفار نظیر پیش کر دیتے۔افسوس ان لوگوں نے بے وجہ پادریوں کی مدد پر کمر باندھ لی ہے جب وہ کہتے ہیں کہ قرآن مجید کی رو سے بشر تو آسمان پر جا نہیں سکتا مگر عیسی علیہ السلام آسمان پر چلے گئے اس لئے وہ خدا ہیں تو پھر منہ تکتے رہ جاتے ہیں۔اتنا نہیں سمجھتے کہ حضرت عیسی علیہ السلام تو ایک کمزور اور عاجز انسان تھے اور خدا کے رسول تھے ایک ذرہ بھی اس سے زیادہ نہ تھے۔الحکم جلد نمبر ۳۹ مورخه ۱٫۳۱ اکتوبر ۱۹۰۷ صفحه ۶)