تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 186
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸۶ سورة بنی اسراءیل ہو گیا جواب دیتے ہیں کہ خدا نے خود مسیح کو یہ قدرت دی تھی۔اے نادانو اگر خدائی نے تقسیم ہونا تھا تو کیا اس کے حصہ گیر عیسی ہی رہ گئے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کیوں نہ حصہ ملا۔(البدرجلد ۳ نمبر ۳۵ مورخه ۱۶ ستمبر ۱۹۰۴ء صفحه ۲) خود خدا تعالیٰ کے کلام میں اس امر کا فیصلہ کیا گیا ہے کہ کوئی آسمان پر نہیں جاتا۔جہاں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم ) سے کفار نے آسمان پر چڑھنے کا معجز و طلب کیا تو فرما یا قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًا رسُولاً یعنی بشر رسول کبھی کوئی آسمان پر نہیں چڑھا۔۔۔کتب سماوی اور تاریخ زمانہ بھی یہی شہادت دیتے ہیں کوئی نظیر ایسی نہیں کہ پہلے کوئی دو چار نبی آسمان پر گئے ہوں۔خود مسیح نے بھی یہی فیصلہ کیا کہ یوحنا ہی الیاس ہے ہاں جس طرح آدم، موسیٰ ، نوح اور دوسرے نبی آسمان پر گئے اس طرح بیشک حضرت عیسی بھی گئے تھے۔چنانچہ شب معراج میں آنحضرت صلعم نے سب کو آسمان پر دیکھا حضرت عیسی کی کوئی خصوصیت نہ تھی۔افسوس ہے کہ ان لوگوں کی قوت شامہ ہی ماری گئی ہے۔خود زمانہ کی حالت سے بو آتی ہے کہ ایسا عقیدہ رکھنا عیسائیت کی پہلی اینٹ ہے ( بدر جلد نمبر ۱۹ مورخه ۱۰ /اگست ۱۹۰۵ء صفحه ۲) سچی اور بالکل سچی اور صاف بات یہی ہے کہ اجسام ضرور ملتے ہیں لیکن یہ عنصری اجسام یہاں ہی رہ جاتے ہیں یہ او پر نہیں جاسکتے جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار کے جواب میں فرما یا قُلُ سُبحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلا بَشَرًا رَسُولاً یعنی ان کو کہہ دے میرا رب اس سے پاک ہے جو اپنے وعدوں کے خلاف کرے جو وہ پہلے کر چکا ہے میں تو صرف ایک بشر رسول ہوں۔سُبحان کا لفظ اس لئے استعمال کیا کہ سابق جو وعدے ہو چکے ہیں ان کی خلاف ورزی وہ نہیں کرتا۔وہ وعدہ کیا ہے؟ وَ لَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَ مَتَاعٌ إلى حِينِ (البقرة : ۳۷) اور ایسا ہی فرمایا الم نَجْعَلِ الْأَرْضَ كِفَاتًا (المرسلت : ۲۲) اور پھر فِيهَا تَحْيَونَ وَفِيهَا تَمُوتُونَ (الاعراف : ۲۶) ان سب آیتوں پر اگر یکجائی نظر کی جاوے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ جسم جو کھانے پینے کا محتاج ہے آسمان پر نہیں جاتا پھر ہم دوسرے نبیوں سے بڑھ کر مسیح میں یہ خصوصیت کیوں کر تسلیم کر لیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کفار نے شرارت سے یہی سوال کیا تھا کہ آپ آسمان پر چڑھ جائیں اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ پہلے وہ آیات سن چکے تھے جس میں اس امر کی نفی کی گئی تھی انہوں نے سوچا کہ اگر اب اقرار کریں تو اعتراض کا موقع ملے لیکن وہ تو اللہ کا کلام تھا اس میں اختلاف نہیں ہوسکتا تھا اس لئے ان کو یہی