تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 176
سورة بنی اسراءیل تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کسی سچے مسلمان سے ایسی گستاخی ہو سکتی ہے؟ ہر گز نہیں۔( توضیح مرام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۵۶،۵۵) اگر حضرت مسیح بن مریم نے در حقیقت ایسے طور سے ہی اُترنا ہے جس طور سے ہمارے علماء یقین کئے بیٹھے ہیں تو ظاہر ہے کہ اس سے کوئی فرد بشر انکار نہیں کرسکتا لیکن ہمارے علماء کو یادرکھنا چاہیئے کہ ایسا بھی نہیں ہو گا۔کیونکہ خدائے تعالیٰ قرآن شریف میں صاف فرماتا ہے کہ اگر میں فرشتوں کو بھی زمین پر نبی مقرر کر کے بھیجتا تو انہیں بھی التباس اور اشتباہ سے خالی نہ رکھتا۔یعنی اُن میں بھی شبہ اور شک کرنے کی جگہ باقی رہتی ہے۔صاف ظاہر ہے کہ یہی معجزہ آسمان سے اترنے کا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی مانگا گیا تھا اور اُس وقت اس معجزہ کے دکھلانے کی بھی ضرورت بہت تھی کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے انکار رسالت کرنے سے جہنم ابدی کی سزا تھی مگر پھر بھی خدائے تعالیٰ نے یہ معجزہ نہ دکھایا اور سائلوں کو صاف جواب ملا کہ اس دار الابتلاء میں ایسے کھلے کھلے معجزات خدائے تعالیٰ ہر گز نہیں دکھاتا تا ایمان بالغیب کی صورت میں فرق نہ آوے۔کیونکہ جب خدائے تعالی کی طرف سے ایک بندہ اترتا ہوا دیکھ لیا اور فرشتے بھی آسمان سے اُترتے ہوئے نظر آئے تو پھر تو بات ہی بکلی فیصلہ ہو گئی تو پھر کون بد بخت ہے جو اس سے منکر رہے گا ؟ قرآن شریف اس قسم کی آیات سے بھرا پڑا ہے جن میں لکھا ہے کہ ایسے معجزات دکھانا خدائے تعالیٰ کی عادت نہیں ہے اور کفار مکہ ہمیشہ ایسے ہی مجزات مانگا کرتے تھے۔اور خدائے تعالی برابر انہیں یہ کہتا تھا کہ اگر ہم چاہیں تو کوئی نشان آسمان سے ایسا نازل کریں جس کی طرف تمام منکروں اور کافروں کی گردنیں جھک جائیں۔لیکن اس دار الابتلاء میں ایسا نشان ظاہر کرنا ہماری عادت نہیں کیونکہ اس سے ایمان بالغیب جس پر تمام ثواب مترتب ہوتا ہے ضائع اور دُور ہو جاتا ہے۔سواے بھائیو! میں محض نصینا اللہ آپ لوگوں کو سمجھا تا ہوں کہ اس خیال محال سے باز آ جاؤ۔ان دو قرینوں پر متوجہ ہو کر نظر ڈالو کہ کس قدر قوی اور کھلے کھلے ہیں۔اول ایلیا نبی کا آسمان سے اتر نا کہ آخر وہ اترے تو کس طرح اُترے۔دوسرے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سوال ہونا اور قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي اس کا جواب ملنا۔اپنے دلوں میں سوچو کہ کیا یہ اس بات کے سمجھنے کے لئے قرائن قویہ اور دلائل کا فیہ نہیں کہ آسمان سے اترنے سے مراد حقیقی اور واقعی طور پر اتر نانہیں بلکہ مثالی اور ظلی طور پر اُتر نا (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۲۴۳، ۲۴۴) کفار کہتے ہیں کہ تو آسمان پر چڑھ کر ہمیں دکھلا تب ہم ایمان لے آویں گے۔ان کو کہہ دے کہ میرا خدا اس سے پاک تر ہے کہ اس دار الابتلاء میں ایسے کھلے کھلے نشان دکھاوے اور میں بجز اس کے اور کوئی نہیں ہوں کہ مراد ہے۔