تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 175 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 175

۱۷۵ سورة بنی اسراءیل تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور فصاحت کے رو سے بھی بے نظیر ہے لیکن قرآن کریم کا یہ منشاء نہیں ہے کہ اس کی بے نظیری صرف اسی وجہ سے ہے بلکہ اس پاک کلام کا یہ منشاء ہے کہ جن جن صفات سے وہ متصف کیا گیا ہے ان تمام صفات کے رو سے وہ بے نظیر ہے مگر یہ حاجت نہیں کہ وہ تمام صفات جمع ہو کر بےنظیری پیدا ہو بلکہ ہر یک صفت جدا گانہ بے نظیری کی حد تک پہنچی ہوئی ہے۔(کرامات الصادقين ، روحانی خزائن جلدے صفحہ ۵۱،۵۰) ان کو کہہ دے کہ اگر جن وانس اس کی نظیر بنانا چاہیں یعنی وہ صفات کاملہ جو اس کی بیان کی گئی ہیں اگر کوئی ان کی مثل بنی آدم اور جنات میں سے بنانا چاہیں تو یہ ان کے لئے ممکن نہ ہوگا اگر چہ ایک دوسرے کی مدد بھی کریں۔(کرامات الصادقين ، روحانی خزائن جلدے صفحہ ۵۹) وَلَقَد صَرَفنَا لِلنَّاسِ فِي هَذَا الْقُرْآنِ مِنْ كُلِّ مَثَلِ فَأَبَى أَكْثَرُ النَّاسِ إِلَّا كُفُورًا اور البتہ طرح طرح بیان کیا ہم نے واسطے لوگوں کے قرآن میں ہر ایک مثال سے۔پس انکار کیا اکثر لوگوں نے مگر کفر کرنا۔یعنی ہم نے ہر ایک طور سے دلیل اور حجت کے ساتھ قرآن کو پورا کیا مگر پھر بھی لوگ انکار سے باز نہ آئے۔جنگ مقدس، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۸۶) أو يَكُونَ لَكَ بَيْتٌ مِّنْ زُخْرُفٍ أَوْ تَرَقَى فِي السَّمَاءِ وَ لَنْ نُؤْمِنَ لِرُقِنِكَ حَتَّى تُنَزِّلَ عَلَيْنَا كِتُبَا نَّقْرَؤُهُ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًا رَّسُولًا۔۹۴ یہی معجزہ کفار مکہ نے ہمارے سید و مولیٰ حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگا تھا کہ آسمان پر ہمارے رو برو چڑھیں اور روبروہی اتریں اور انہیں جواب ملا تھا کہ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّی یعنی خدائے تعالی کی حکیمانہ شان اس سے پاک ہے کہ ایسے کھلے کھلے خوارق اس دار الابتلا میں دکھاوے اور ایمان بالغیب کی حکمت کو تلف کرے۔اب میں کہتا ہوں کہ جو امر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جو افضل الانبیاء تھے جائز نہیں اور سنت اللہ سے باہر سمجھا گیا وہ حضرت مسیح کے لئے کیوں کر جائز ہو سکتا ہے۔یہ کمال بے ادبی ہوگی کہ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت ایک کمال کو مستبعد خیال کریں اور پھر وہی کمال حضرت مسیح کی نسبت قریب قیاس مان لیں۔کیا