تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page ii
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ و على عبده المسيح الموعود عرض حال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔میں قرآن شریف کے حقائق معارف بیان کرنے کا نشان دیا گیا ہوں کوئی نہیں کہ جو 66 اس کا مقابلہ کر سکے۔“ ( ضرورت الامام۔روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه (۴۹۶) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ۲۰ جولائی ۱۹۰۰ء کو اپنے مخالفین کو قرآن کریم کی تفسیر لکھنے کا چیلنج دیا مگر کوئی مدمقابل نہ آیا۔حضور علیہ السلام نے شرائط کے مطابق تفسیر لکھ کر شائع فرمائی اور فرمایا۔میں نے اس تفسیر کو اپنی طاقت سے نہیں لکھا۔میں تو ایک کمزور بندہ ہوں اور اسی طرح میرا کلام بھی۔لیکن یہ سب کچھ اللہ اور اس کے الطاف کریمانہ ہیں کہ اس تفسیر کے خزانوں کی چابیاں مجھے دی گئی ہیں اور پھر اسی جناب سے مجھے اس کے دفینوں کے اسرار عطا کئے گئے ہیں۔میں نے اس میں طرح طرح کے معارف جمع کئے اور انہیں ترتیب دیا ہے۔" (اعجاز امسح۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۵۶،۵۵ - اردو تر جمعه ) قرآن کریم کے حقائق و معارف جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرمائے آپ کی کتب و ملفوظات میں مذکور ہیں ، ان کو یکجا کر کے تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نام سے طبع اول کتابی صورت میں ۸ جلدوں میں اشاعت پذیر ہوا تھا۔طبع دوم کی اشاعت کے وقت ۸ جلدوں کو ۴ جلدوں میں شائع کیا گیا۔یہ جلد میں کتابت سے پرنٹ ہوئی تھیں۔حضرت خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کمپیوٹرائزڈ ورژن کی اشاعت کی ہدایت و اجازت فرمائی ہے۔نیز حضور کا منشائے مبارک