تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 171
121 سورة بنی اسراءیل تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام غرض ہمارے پاس تو ہمارے دعوے کا ثبوت ہے۔ثابتہ سچائی سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔اصل میں ان پھلوں میں ایک قسم کا مادہ اندر ہی اندر موجود ہوتا ہے ) جو پھل کے نشوونما کے ساتھ ساتھ نشو ونما کرتا اور ترقی ا حکم جلد ۱۲ نمبر ۳۵ مورخه ۳۰ مئی ۱۹۰۸ صفحه ۶٫۵) پاتا ہے۔روح تین قسم کی ہوتی ہے روح نباتی ، روح حیوانی ، روح انسانی۔ان تینوں کو ہم برابر نہیں مانتے۔ان میں سے حقیقی زندگی کی وارث اور جامع کمالات صرف انسانی روح ہے باقی حیوانی اور نباتی روح میں بھی ایک قسم کی زندگی ہے مگر وہ انسانی روح کی برابری نہیں کر سکتی۔نہ ویسے مدارج حاصل کر سکتی ہے نہ کمالات میں انسانی روح کی برابری کر سکتی ہے کچھ تشابہ ہو تو اس بار یک بحث میں ہم پڑنا مناسب نہیں سمجھتے۔ہوسکتا ہے کہ بعض خاص خاص صفات میں یہ روحیں انسانی روح سے مشابہت رکھتی ہوں مگر جس طرح انسان میں اور ان میں ظاہری اختلاف اور فرق ہے اسی طرح اختلاف روحانی بھی پایا جاتا ہے۔الحام جلد ۱۲ نمبر ۳۵ مورخه ۳۰ مئی ۱۹۰۸ صفحه ۶) نظر کشفی میں کچھ ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ تمام ارواح اور اجسام کلمات اللہ ہی ہیں جو بحکمت کا ملہ الہی پیرا یہ حدوث و مخلوقیت سے متلبس ہو گئے ہیں مگر اصل محکم جس پر قدم مارنا اور قائم رہنا ضروری ہے یہ ہے کہ ان کشفیات و معقولات سے قدر مشترک لیا جائے یعنی یہ کہ خدائے تعالیٰ ہر ایک چیز کا خالق اور محدث ہے اور کوئی چیز کیا ارواح اور کیا اجسام بغیر اس کے ظہور پذیر نہیں ہوئی اور نہ ہو سکتی ہے کیونکہ کلام الہی کی عبارت اس جگہ در حقیقت زوالوجوہ ہے اور جس قدر قطع اور یقین کے طور پر قرآن شریف ہدایت کرتا ہے وہ یہی ہے کہ ہر ایک چیز خدا تعالی سے ظہور پذیر و وجود پذیر ہوئی ہے اور کوئی چیز بغیر اس کے پیدا نہیں ہوئی اور نہ خود بخود سرمه چشم آریہ، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۱۷۵،۱۷۴ حاشیه ) ہے۔روحوں کی پیدائش پر انسان کیوں تعجب کرے۔اسی دنیا میں صاحب کشف پر ایسے ایسے اسرار ظاہر ہوتے ہیں کہ ان کی کنہ کو سمجھنے میں بکلی معقل عاجز رہ جاتی ہے۔بعض اوقات صاحب کشف صد ہا کوسوں کے فاصلہ سے باوجود حائل ہونے بے شمار حجابوں کے ایک چیز کو صاف صاف دیکھ لیتا ہے بلکہ بعض اوقات عین بیداری میں باذنہ تعالیٰ اس کی آواز بھی سن لیتا ہے اور اس سے زیادہ تر تعجب کی یہ بات ہے کہ بعض اوقات وہ شخص بھی اس کی آواز سن لیتا ہے جس کی صورت اس پر منکشف ہوئی ہے بعض اوقات صاحب کشف اپنے عالم کشف میں جو بیداری سے نہایت مشابہ ہے ارواح گذشتہ سے ملاقات کرتا ہے اور عام طور پر ملاقات ہر