تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 169 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 169

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۶۹ سورة بنی اسراءیل یہاں تک کہ مضغہ علقہ وغیرہ چھ حالتوں میں سے گزرتا ہے اور ان چھ تغیرات کے بعد ثُمَّ انْشَأْنَهُ خَلْقًا آخر (المؤمنون: ۱۵ ) کا وقت آتا ہے۔اب اس آخری تبدیلی کو نشاء اخری کہا ہے یہ نہیں کہ ثُمَّ انْزَلْنَاهُ رُوحًا اخر اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ باہر سے کوئی چیز نہیں آتی۔اب اس کو خوب غور سے سوچو تو معلوم ہوگا کہ روح کا جسم کے ساتھ کیسا ابدی تعلق ہے پھر یہ کیسی بیہودگی ہے جو کہا جاوے کہ جسم کا روح کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے یہ کس قدر ز بر دست ثبوت روح کی ہستی کا ہے اس کو کوئی معمولی نگاہ سے دیکھے تو اور بات ہے لیکن معقولیت اور فلسفہ سے سوچے تو اس سے انکار نہیں کر سکتا۔اسی طرح ایک اور بات بھی قابل غور ہے کہ دنیا میں کبھی کوئی شخص کامیاب نہیں ہوا جو جسم اور روح دونوں سے کام نہ لے۔اگر روح کوئی چیز نہیں تو ایک مردہ جسم سے کوئی کام کیوں نہیں ہوسکتا۔کیا اس کے سارے اعضاء اور قومی موجود نہیں ہوتے اب یہ بات کیسی صفائی کے ساتھ سمجھ میں آتی ہے کہ روح اور جسم کا تعلق جبکہ ابدی ہے پھر کیوں کسی ایک کو بر کار قراردیا جاوے۔دعا کے لئے بھی یہی قانون ہے کہ جسم تکالیف اٹھائے اور روح گداز ہو اور پھر صبر اور استقلال سے اللہ تعالیٰ کی ہستی پر ایمان لا کر حسن ظن سے کام لیا جاوے۔الحکم جلدے نمبر ۱۰ مورخہ ۱۷ / مارچ ۱۹۰۳ صفحه ۲) یا درکھو کہ عقل روح کی صفائی سے پیدا ہوتی ہے جس جس قدر انسان روح کی صفائی کرتا ہے اسی اسی قدر عقل میں تیزی پیدا ہوتی ہے اور فرشتہ سامنے کھڑا ہو کر اس کی مدد کرتا ہے۔مگر فاسقانہ زندگی والے کے دماغ میں روشنی نہیں آسکتی۔الحکم جلدے نمبر ۱۲ مورخه ۳۱ مارچ ۱۹۰۳ صفحه ۳) خدا تعالیٰ ہمیشہ سے خالق ہے مگر اس کے تمام صفات دیکھنا چاہیے وہ بھی ہے اور ممیت بھی ہے۔اثبات بھی کرتا ہے تو محو بھی کرتا ہے پیدا بھی کرتا ہے فنا بھی کرتا ہے اس بات کی کیا دلیل ہے کہ روح کو فنا نہیں اور کہ یہی روح ہمیشہ سے چلے آتے ہیں وہ جب تک کسی کو چاہے رکھے۔ہر ایک چیز فنا ہو جانے والی ہے باقی رہنے والی ذات صرف خدا کی ہی ہے روح میں جبکہ ترقی بھی ہوتی ہے اور تنزل بھی ہوتا ہے تو پھر اس کو ہمیشہ کے واسطے قیام کس طرح ہو سکتا ہے۔جب تک روح کا قیام ہے وہ امر الہی کے قیام کے نیچے ہے خدا کے امر کے ماتحت ہی کسی کا قیام ہو سکتا ہے اور وہی فنا بھی کرتا ہے وہ ہمیشہ خالق بھی ہے اور ہمیشہ خلق کو مٹاتا بھی ہے۔مسلمان قدامت کا قائل ہے مگر قدامت نوعی کا نہ کہ قدامت شخصی کا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ ہم نہیں جانتے کہ پہلے کیا چیزیں تھیں اور کیا نہ تھیں۔اگر اس کے برخلاف قدامت شخصی کا