تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 168 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 168

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۶۸ سورة بنی اسراءیل دہر یہ روح کا ہی انکار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ کوئی چیز ہے ہی نہیں۔اور پھر کہتے ہیں کہ حشر اجساد کوئی چیز نہیں یہاں روح تعلیم پا کر آئندہ کیا کرے گا۔یہ خیالی باتیں ہیں ان میں معقولیت نہیں ہے۔اگر روح کوئی چیز نہیں ہے تو پھر یہ کیا بات ہے کہ جسم پر جو فعل واقع ہوتے ہیں ان کا اثر اندرونی قوتوں پر بھی پڑتا ہے۔مثلاً اگر مقدم الراس پر چوٹ لگ جائے تو اس فساد کے ساتھ انسان مجنون ہوجاتا ہے یا حافظہ جاتا رہتا ہے۔مجنونوں کی روح تو وہی ہیں نقص تو جسم میں ہے جسم کا اگر اچھا انتظام نہ رہے تو روح بیکار ہو جاتا ہے وہ بدوں جسم کسی کام نہیں ہے اس لئے ہمیشہ جسم کا محتاج ہے جس کا انتظام عمدہ ہو روحانی حالت بھی اچھی ہوگی۔چھوٹے بچہ میں کیوں اتنی سمجھ نہیں ہوتی کہ وہ عواقب الامور کو سمجھ سکے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ ان میں ابھی قومی کا نشو ونما کامل نہیں ہوا ہوتا۔اسی طرح پیٹ میں جو نطفہ جاتا ہے کسی کو کچھ معلوم نہیں کہ روح اس کے ساتھ کہاں سے چلی جاتی ہے۔اس کے ساتھ ہی دراصل ایک مخفی قوت چلی جاتی ہے جو انبساط اور نشاط کا باعث ہوتی ہے اسی طرح اناج میں بھی وہی کیفیت چلی آتی ہے۔اسی کی طرف مولوی رومی نے اشارہ کر کے کہا ہے۔ہفت صد هفتا و قالب دیده ام ہمچو سبزہ با رہا روئیده ام نافہم اور کوڑ مغز لوگوں نے اس شعر کو تناسخ پر حمل کر لیا ہے اور کہتے ہیں اس سے تناسخ ثابت ہوتا ہے مگران کو معلوم نہیں کہ یہ دراصل تغیرات نطفہ کی طرف ایما ہے یعنی جن جن تغیرات سے نطفہ تیار ہوتا ہے۔اس کو اس ہے۔اس شعر میں ظاہر کیا گیا ہے۔شاید بہت تھوڑے آدمی ایسے ہوں گے جن کو یہ معلوم ہو کہ نطفہ بہت سے تغیرات سے بنتا ہے جس اناج سے نطفہ بنا ہے نطفہ کی حالت میں آنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اس کو بہت سے تغیرات میں ڈالا ہے اور پھر اس کو محفوظ رکھا ہے۔کیونکہ وہ در حقیقت نطفہ ہے اپنے وقت پر وہ پیسا بھی جاتا ہے اور اس سے روٹی بھی تیار کی جاتی ہے لیکن وہ محفوظ کا محفوظ چلا آتا ہے۔آج کل نطفہ کے متعلق جو تحقیقات ہوئی ہے تو ڈاکٹر کہتے ہیں کہ اس میں کیڑے ہوتے ہیں۔یہ ایک الگ امر ہے لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ اصل میں وہ ایک قوت ہے جو برابر محفوظ چلی آتی ہے ممکن ہے کہ جو کچھ ڈاکٹروں نے سمجھا ہو وہ اس قوت کو سمجھا ہو۔ہر اناج کے ساتھ انسانیت کا خاصہ نہیں بلکہ وہ جو ہر قابل الگ ہی ہے اور اس کو وہی کھاتا ہے جس کے لئے وہ مقدر ہوتا ہے اور وہ اسی دن کے لئے مقدر ہوتا ہے۔وہ نطفہ جس میں روحانیت کی جز ہے بڑھتا جاتا ہے