تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 167
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام 192 سورة بنی اسراءیل نطفہ کا مادہ ہوتا ہے اس کے مناسب حال روحانی اخلاق اس جانور کے ہوتے ہیں۔چشمه معرفت ، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۱۶۵،۱۶۴) قبور کے ساتھ جو تعلق ارواح کا ہوتا ہے یہ ایک صداقت تو ہے مگر اس کا پتہ دینا اس آنکھ کا کام نہیں یہ کشفی آنکھ کا کام ہے کہ وہ دکھلاتی ہے۔اگر محض عقل سے اس کا پتہ لگانا چاہو تو کوئی عقل کا پتلا اتنا ہی بتلائے کہ روح کا وجود بھی ہے یا نہیں؟ ہزار اختلاف اس مسئلہ پر موجود ہیں اور ہزار فلاسفر د ہر یہ مزاج موجود ہیں جو منکر ہیں۔اگر نری عقل کا یہ کام تھا تو پھر اختلاف کا کیا کام؟ کیونکہ جب آنکھ کا کام دیکھنا ہے تو میں نہیں کہہ سکتا کہ زید کی آنکھ تو سفید چیز کو دیکھے اور بکر کی ویسی ہی آنکھ اس سفید چیز کا ذائقہ بتلائے۔میرا مطلب یہ ہے کہ نری عقل روح کا وجود بھی یقینی طور پر نہیں بتلا سکتی چہ جائیکہ اس کی کیفیت اور تعلقات کا علم پیدا کر سکے۔فلاسفر تو روح کو ایک سبز لکڑی کی طرح مانتے ہیں اور روح فی الخارج ان کے نزدیک کوئی چیز ہی نہیں۔یہ تفاسیر روح کے وجود اور اس کے تعلق وغیرہ کی چشمہ نبوت سے ملی ہیں۔اور نرے عقل والے تو دعوی ہی نہیں کر سکتے۔اگر کہو کہ بعض فلاسفروں نے کچھ لکھا ہے تو یا درکھو کہ انہوں نے منقولی طور پر چشمہ نبوت سے کچھ لے کر کہا ہے پس جب یہ بات ثابت ہو گئی کہ روح کے متعلق علوم چشمہ نبوت سے ملتے ہیں تو یہ امر کہ ارواح کا قبور کے ساتھ تعلق ہوتا ہے اس چشم سے دیکھنا چاہیے اور کشفی آنکھ نے بتلایا ہے کہ اس تو دہ خاک سے روح کا ایک تعلق ہوتا ہے اور السّلامُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ الْقُبُورِ کہنے سے جواب ملتا ہے۔پس جو آدمی ان قومی سے کام لے جن سے کشف قبور ہوسکتا ہے وہ ان تعلقات کو دیکھ سکتا ہے۔الحکم جلد ۳ نمبر ۳ مورخه ۲۳ /جنوری ۱۸۹۹ء صفحه ۲، ۳) یا درکھو ہر انسان کلمتہ اللہ ہے کیونکہ اس کے اندر روح ہے جس کا نام قرآن شریف میں آمرِ رَبّی رکھا گیا ہے لیکن انسان نادانی اور نا واقعی سے روح کی کچھ قدر نہ کرنے کے باعث اس کو انواع و اقسام کی سلاسل اور زنجیروں میں مقید کر دیتا ہے اور اس کی روشنی اور صفائی کو خطرناک تاریکیوں اور سیاہ کاریوں کی وجہ سے اندھا اور سیاہ کر دیتا ہے اور اسے ایسا دھندلا بناتا ہے کہ پتہ بھی نہیں لگتا۔لیکن جب تو بہ کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے اور اپنی ناپاک اور تاریک زندگی کی چادر اتار دیتا ہے تو قلب منور ہونے لگتا ہے اور پھر اصل میدہ کی طرف رجوع شروع ہوتا ہے یہاں تک کہ تقویٰ کے انتہائی درجہ پر پہنچ کر سارا میل کچیل اتر کر پھر وہ کلمۃ اللہ ہی رہ جاتا ہے۔یہ ایک بار یک علم اور معرفت کا نکتہ ہے ہر شخص اس کی تہہ تک نہیں پہنچ سکتا۔الحکم جلد ۵ نمبر ۱۰ مورخه ۱۷ مارچ ۱۹۰۱ صفحه ۱)