تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 166
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۶۶ سورۃ بنی اسراءیل اختیاری قوت اس کی مسلوب ہو جاتی ہے اور کامل طور پر موت کے آثار اس پر ظاہر ہو جاتے ہیں سوجس قدر جسم پر موت آتی ہے اس سے بڑھ کر رُوح پر موت وارد ہو جاتی ہے مجھے ایسے لوگوں سے سخت تعجب آتا ہے کہ وہ اپنی حالت خواب پر بھی غور نہیں کرتے اور نہیں سوچتے کہ اگر رُوح موت سے مستثنیٰ رکھی جاتی تو وہ ضرور عالم خواب میں بھی مستقلی رہتی ہمارے لئے خواب کا عالم موت کے عالم کی کیفیت سمجھنے کے لئے ایک آئینہ کے حکم میں ہے جو شخص روح کے بارے میں سچی معرفت حاصل کرنا چاہتا ہے اس کو چاہئے کہ خواب کے عالم پر بہت غور کرے کہ ہر ایک پوشیدہ راز موت کا خواب کے ذریعہ سے کھل سکتا ہے اگر تم عالم خواب کے اسرار پر جیسا کہ چاہئے توجہ کرو گے اور جس طور سے عالم خواب میں روح پر ایک موت وارد ہوتی ہے اور اپنے علوم اور صفات سے وہ الگ ہو جاتی ہے اس طور پر نظر تدبر ڈالو گے تو تمہیں یقین ہو جائے گا کہ موت کا معاملہ خواب کے معاملہ سے ملتا جلتا ہے پس یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ روح مفارقت بدن کے بعد اُسی حالت پر قائم رہتی ہے جو حالت دنیا میں وہ رکھتی تھی بلکہ خدا تعالیٰ کے حکم سے ایسی ہی موت اس پر وارد ہو جاتی ہے جیسا کہ خواب کی حالت میں وارد ہوئی تھی بلکہ وہ حالت اِس سے بہت زیادہ ہوتی ہے اور ہر ایک صفت اس کی نیستی کی چکی کے اندر پیسی جاتی ہے اور وہی رُوح کی موت ہوتی ہے اور پھر جو لوگ زندہ ہونے کے کام کرتے تھے وہی زندہ کئے جاتے ہیں کسی روح کی مجال نہیں کہ آپ زندہ رہ سکے۔کیا تم اختیار رکھتے ہو کہ نیند کی حالت میں تم اپنے ان صفات اور حالات اور علوم کو اپنے قبضہ میں رکھ سکو جو بیداری میں تم کو حاصل ہیں؟ نہیں بلکہ آنکھ بند کرنے کے ساتھ ہی روح کی حالت بدل جاتی ہے اور ایک ایسی نیستی اُس پر وارد ہوتی ہے کہ تمام کارخانہ اُس کی ہستی کا الٹ پلٹ ہو جاتا ہے۔چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۱۵۸ تا ۱۶۲) قرآن شریف رُوحوں کو ازلی ابدی نہیں ٹھہراتا ہے اُن کو تخلوق بھی مانتا ہے اور فانی بھی۔جیسا کہ وہ روحوں کے مخلوق ہونے کے بارے میں صاف طور پر فرماتا ہے کہ ثُمَّ انْشَأنَهُ خَلْقًا أَخَرَ (المؤمنون : ۱۵) یعنی جب قالب تیار ہو جاتا ہے تو اس کی تیاری کے بعد اُسی قالب میں سے ہم ایک نئی پیدائش کر دیتے ہیں یعنی روح اور ایسا ہی قرآن شریف میں ایک اور جگہ فرمایا ہے قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إلا قليلا یعنی روح میرے رب کے امر سے پیدا ہوتی ہے اور تم کو اس کا بہت تھوڑ اعلم ہے اور کئی محل میں خدا تعالیٰ نے یہ بھی اشارہ فرمایا ہے کہ جس مادہ سے رُوح پیدا ہوتی ہے اسی مادہ کے موافق روحانی اخلاق ہوتے ہیں جیسا کہ تمام درندوں، چرندوں، پرندوں اور حشرات الارض پر غور کر کے یہی ثابت ہوتا ہے کہ جیسا کہ