تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 151 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 151

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۵۱ سورة بنی اسراءیل مارتا ہے اور تمہیں اُس تاریکی سے نجات دیتا ہے مثلاً جیسے تاریکی کے بعد پھر آخر کار صبح نکلتی ہے اور پھر وہی روشنی دن کی اپنی چمک کے ساتھ ظاہر ہو جاتی ہے سو اس روحانی حالت کے مقابل پر نماز فجر مقرر ہے اور خدا نے تمہارے فطرتی تغیرات میں پانچ حالتیں دیکھ کر پانچ نمازیں تمہارے لئے مقرر کیں اس سے تم سمجھ سکتے ہو کہ یہ نمازیں خاص تمہارے نفس کے فائدہ کے لئے ہیں پس اگر تم چاہتے ہو کہ ان بلاؤں سے بچے رہو تو تم پنجگانہ نمازوں کو ترک نہ کرو کہ وہ تمہاری اندرونی اور روحانی تغیرات کاظل ہیں۔نماز میں آنے والی بلاؤں کا علاج ہے تم نہیں جانتے کہ نیا دن چڑھنے والا کس قسم کے قضاء وقدرتمہارے لئے لائے گا پس قبل اس کے جو دن چڑھے تم اپنے مولیٰ کی جناب میں تضرع کرو کہ تمہارے لئے خیر و برکت کا دن چڑھے۔کشتی نوح، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۶۸ تا ۷۰) یا درکھو کہ یہ جو پانچ وقت نماز کے لئے مقرر ہیں یہ کوئی تحکم اور جبر کے طور پر نہیں بلکہ اگر غور کرو تو یہ دراصل روحانی حالتوں کی ایک عکسی تصویر ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اقمِ الصَّلوةَ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ یعنی قائم کرو نماز کو دُلُوكِ الشَّمس سے۔اب دیکھو اللہ تعالیٰ نے یہاں قیام صلوۃ کو دُلُوكِ الشَّمْسِ سے لیا ہے دُلُوك کے معنوں میں گو اختلاف ہے لیکن دو پہر کے ڈھلنے کے وقت کا نام دُلُوك ہے۔اب دُلُوك سے لے کر پانچ نمازیں رکھ دیں اس میں حکمت اور ستر کیا ہے قانون قدرت رکھتا ہے کہ روحانی تذلل اور انکسار کے مراتب بھی دلوک ہی سے شروع ہوتے ہیں اور پانچ ہی حالتیں آتی ہیں۔پس یہ طبعی نماز بھی اس وقت سے شروع ہوتی ہے جب خون اور ہم و غم کے آثار شروع ہوتے ہیں۔اس وقت جبکہ انسان پر کوئی آفت یا مصیبت آتی ہے تو کس قدر تذلل اور انکساری کرتا ہے۔اب اس وقت اگر زلزلہ آوے تو تم سمجھ سکتے ہو کہ طبیعت میں کیسی رقت اور انکساری پیدا ہو جاتی ہے۔اسی طرح پر سوچو کہ اگر مثلاً کسی شخص پر نالش ہو تو سمن یا وارنٹ آنے پر اس کو معلوم ہوگا کہ فلاں دفعہ فوجداری یا دیوانی میں نالش ہوئی ہے۔اب بعد مطالعہ وارنٹ اس کی حالت میں گویا نصف النہار کے بعد زوال شروع ہوا۔کیونکہ وارنٹ یا سمن تک تو اسے کچھ معلوم نہ تھا۔اب خیال پیدا ہوا کہ خدا جانے ادھر وکیل ہو یا کیا ہو؟ اس قسم کے تر ڈدات اور تفکرات سے جوز وال پیدا ہوتا ہے یہ وہی حالت دُلُوك ہے اور یہ پہلی حالت ہے جو نماز ظہر کے قائم مقام ہے اور اس کی عکسی حالت نماز ظہر ہے۔اب دوسری حالت اس پر وہ آتی ہے جبکہ وہ کمرہ عدالت میں کھڑا ہو۔فریق مخالف اور عدالت کی طرف سے سوالات جرح ہورہے ہیں اور وہ ایک عجیب حالت ہوتی ہے۔یہ وہ حالت اور وقت ہے جو نماز عصر کا