تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 125 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 125

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۲۵ سورة بنی اسراءیل ہیں اور اس شدت سے وقوع میں آئے ہیں کہ اس مجموعی حالت کی نظیر کسی پہلے زمانہ میں پائی نہیں جاتی۔(حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲۰۷،۲۰۶) قرآن شریف میں یہ بھی پیشگوئی ہے وَ اِنْ مِنْ قَرْيَةٍ إِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوهَا قَبْلَ يَوْمِ الْقِيمَةِ أو مُعَذِّبُوهَا عَذَابًا شَدِيدًا یعنی کوئی ایسی بستی نہیں جس کو ہم قیامت سے پہلے ہلاک نہ کریں گے یا اس پر شدید عذاب نازل نہ کریں گے یعنی آخری زمانہ میں ایک سخت عذاب نازل ہوگا اور دوسری طرف یہ فرمایا وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولًا (بنی اسرائیل : ۱۹) پس اس سے بھی آخری زمانہ میں ایک رسول کا مبعوث ہونا ظاہر ہوتا ہے اور وہی مسیح موعود ہے۔(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۵۰۰) کوئی بستی ایسی نہیں ہوگی جس کو ہم کچھ مدت پہلے قیامت سے یعنی آخری زمانہ میں جو مسیح موعود کا زمانہ ہے ہلاک نہ کر دیں یا عذاب میں مبتلا نہ کریں۔نزول مسیح ، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۳۹۶) کوئی بستی اور کوئی گاؤں ایسانہ ہو گا کہ جسے ہم قیامت سے پہلے خطرناک عذاب میں مبتلا نہ کر دیں گے یا ہلاک نہ کر دیں گے۔غرض کہ یہ منذر نشان ہے۔کسوف و خسوف کا نشان لوگوں نے ہنستے ہوئے دیکھا اور طاعون کا نشان روتے ہوئے۔بعض نادان اعتراض کرتے ہیں کہ تمہارے آدمی کیوں مرتے ہیں۔ان نادانوں کو اتنا معلوم نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں بھی جب لوگ عذاب کا معجزہ مانگتے تھے تو ان کو تلوار کا معجزہ ملا اور یہ بھی ایک قسم کا عذاب تھا چنانچہ کئی صحابہ بھی تلوار سے شہید ہوئے مگر کیا ابو بکر و عمر جیسے بھی ہلاک ہوئے۔اللہ تعالیٰ نے جس جس انسان کے دماغ یا ہاتھ سے کوئی اپنا کام لینا ہے وہ تو بیچ ہی رہے اور بالمقابل جتنے رئیس کفار تھے ان سب کا ٹھکانا جہنم ہوا اور ان کے صغیر و کبیر سب کے سب ہلاک ہو گئے۔اگر ایک شخص کا ایک پیسہ چوری ہو گیا ہے اور دوسرے کا تمام گھر بارلوٹا گیا ہے تو کیا وہ آدمی جس کا تمام گھر بار لوٹا گیا پیسے والے کو کہہ سکتا ہے کہ تم اور میں برابر ہیں۔بھلا سوچو تو سہی کہ اگر ستر برس تک ہمارا کوئی آدمی ہلاک نہ ہو تو ایسا کوئی آدمی ہے جو ہمارے سلسلہ میں داخل ہونے سے رُکار ہے۔مگر اللہ تعالیٰ کو یہ امر منظور نہیں ہے اور نہ کبھی ایسا ہوا ایمان کی حالت ہی کا پوشیدہ ہونا ضروری ہے جب تک ہماری جماعت تقویٰ اختیار نہ کرے نجات نہیں پاسکتی۔خدا تعالیٰ اپنی حفاظت میں نہ لے گا۔یہی سبب ہے کہ بعض ان صحابہ میں سے جن جن سے بڑے بڑے کام لینے تھے وہ سب سخت سے سخت خطروں میں بھی بچائے گئے دوسروں کو خدا نے جلد اٹھا کر بہشت میں داخل کیا۔جاہل کو حقیقت معلوم نہیں ہوتی جو بات