تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 124 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 124

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام الملد سورة بني اسراءيل بَلْ سَعِيرٌ۔ وَتِلْكَ هِيَ دَابَّةُ الْأَرْضِ دابۃ الارض ہے جو لوگوں کو زخمی کر رہا ہے اور لوگ مجروح ہو الَّتِي تُكَلِّمُ النَّاسَ فَهُمْ يَجْرَحُونَ رہے ہیں اور دابۃ الارض کا کاٹنا سخت ہو گیا ہے اور لوگ وَاشْتَدَّ تَكْلِيمُهَا فَيُغْتَالُ النَّاسُ ناگہاں ہلاک اور تباہ ہو رہے ہیں کیونکہ وہ اللہ کے نشانات پر وَيُقْعَصُونَ بِمَا كَانُوا بِآيَاتِ الله لا ایمان نہیں لاتے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وَ إِنْ مِنْ يُؤْمِنُونَ، كَمَا قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ وَ قَرْيَةٍ إِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوهَا قَبْلَ يَوْمِ الْقِيمَةِ أَوْ مُعَذِّبُوهَا إِنْ مِنْ قَرْيَةٍ إِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوهَا قَبْلَ عَذَابًا شَدِيدًا یعنی روئے زمین پر کوئی ایسی بستی نہیں ہوگی يَوْمِ الْقِيمَةِ أَوْ مُعَذِّبُوهَا عَذَابًا جسے ہم قیامت کے دن سے پہلے ہلاک نہ کر دیں یا اسے بہت شَدِيدًا فَكَذَالِكَ تُشَاهِدُونَ۔ سخت عذاب نہ دیں ۔ پس تم اس آیت کے مطابق تباہی کو دیکھ وَذَالِكَ بِأَنَّ النَّاسَ كَانُوا لَا يَتَّقُونَ رہے ہو اور یہ اس وجہ سے ہے کہ لوگ تقویٰ اختیار نہیں کرتے وَكَانُوا يُشِيعُونَ الْفِسْقَ فِي أَرْضِ اور اللہ تعالیٰ کی زمین میں فسق و فجو و فجور پھیلا رہے ہیں اور خدا سے اللهِ وَلَا يَخَافُونَ، وَيَزْدَادُونَ إِنما نہیں ڈرتے اور گنا ہوں اور بے حیائی میں بڑھتے جا رہے ہیں وَفَحْشَاء وَلَا يَنْتَهُونَ، وَإِذَا قِيلَ اور باز نہیں آرہے۔ اور جب انہیں کہا جاتا ہے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ اسْمَعُوا مَا أَنْزَلَ اللهُ لَكُمْ فَكَانُوا نے تمہارے لئے اتارا ہے اسے سنو تو وہ ایڑیوں کے بل پھر عَلَى أَعْقَابِهِمْ يَنْكُصُونَ۔ فَأَخَذَهُمُ جاتے ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے عذاب کے ساتھ اللهُ بِعِقَابِهِ هُذَا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ پکڑ لیا تا کہ وہ باز آجائیں ۔ ( ترجمہ از مرتب) ( مواهب الرحمن ، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۲۴۵، ۲۴۶) طاعون کی خبر قرآن شریف میں صریح لفظوں میں موجود ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ إِنْ مِنْ قَرْيَةٍ إِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوهَا قَبْلَ يَوْمِ الْقِيمَةِ أَوْ مُعَذِّبُوهَا عَذَابًا شَدِيدًا یعنی قیامت سے کچھ دن پہلے بہت سخت مری پڑے گی اور اس سے بعض دیہات تو بالکل نابود ہو جاویں گے اور بعض ایک حد تک عذاب اُٹھا کر بیچ لیکچر سیالکوٹ ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۲۴۰) رہیں گے۔ کوئی ایسی بستی نہیں جس کو ہم قیامت سے کچھ مدت پہلے ہلاک نہیں کریں گے یا کسی حد تک اس پر عذاب وارد نہیں کریں گے۔ سو یہی وہ زمانہ ہے کیونکہ طاعون اور زلزلوں اور طوفان اور آتش فشاں پہاڑوں کے صدمات اور باہمی جنگوں سے لوگ ہلاک ہو رہے ہیں اور اس قدر اسباب موت کے اس زمانہ میں جمع ہوئے