تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 122
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام الله سورة بنى اسراءيل بادشاہوں کی رعیت تو باغی بھی ہو جاتی ہے مگر ملائکہ کی رعیت ایک ایسی رعیت ہے کہ وہ باغی نہیں ہوتی ۔ الحکم جلدے نمبر ۱۴ مورخہ ۱۷ را پریل ۱۹۰۳ء صفحہ ۶ ۷۰ ) جو لوگ ملائک سے انکار کرتے ہیں وہ سخت غلطی پر ہیں ان کو اتنا معلوم نہیں کہ در اصل جس قدر اشیا دنیا میں موجود ہیں ذرہ ذرہ پر ملائکہ کا اطلاق ہوتا ہے اور میں یہی سمجھتا ہوں کہ بغیر اس کے اذن کے کوئی چیز اپنا اثر نہیں کر سکتی یہاں تک کہ پانی کا ایک قطرہ بھی اندر نہیں جا سکتا اور نہ وہ مؤثر ہو سکتا ہے : وَ إِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِہ کے یہی معنے ہیں ۔ الحکم جلدے نمبر ۱۴ مورخہ ۱۷ را پریل ۱۹۰۳ء صفحه (۱۲) نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَا يَسْتَمِعُونَ بِهِ إِذْ يَسْتَمِعُونَ إِلَيْكَ وَ إِذْ هُمْ نَجْوَى إِذْ يَقُولُ الظَّلِمُونَ إِنْ تَتَّبِعُونَ إِلَّا رَجُلًا مَّسْحُورًا ایسی بات کہ آنحضرت صلعم پر ( معاذ اللہ ) جادو کا اثر ہو گیا تھا اس سے تو ایمان اُٹھ جاتا ہے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے إِذْ يَقُولُ الظَّلِمُونَ إِنْ تَتَّبِعُونَ إِلَّا رَجُلًا مَّسْحُورًا - ایسی ایسی باتیں کہنے والے تو ظالم ہیں نہ کہ مسلمان ۔ یہ تو بے ایمانوں اور ظالموں کا قول ہے کہ آنحضرت صلعم پر ( معاذ اللہ ) سحر اور جادو کا اثر ہو گیا تھا ۔ اتنا نہیں سوچتے کہ جب ( معاذ اللہ ) آنحضرت کا یہ حال ہے تو پھر امت کا کیا ٹھکانا وہ تو پھر غرق ہوگئی ۔ معلوم نہیں ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ جس معصوم نبی صلعم کو تمام انبیاء مس شیطان سے پاک سمجھتے آئے ہیں یہ ان کی شان میں ایسے ایسے الفاظ بولتے ہیں ۔ الحکم جلد ا انمبر ۴۰ مورخه ۱۰ نومبر ۱۹۰۷ صفحه ۸) قُلِ ادْعُوا الَّذِينَ زَعَمْتُمْ مِنْ دُونِهِ فَلَا يَمْلِكُونَ كَشْفَ الضُّرِ عَنْكُمْ وَلَا تحويلا مشرکین اور منکرین وجود حضرت باری کو کہہ کہ اگر خدا کے کارخانہ میں کوئی اور لوگ بھی شریک ہیں یا اسباب موجودہ ہی کافی ہیں تو اس وقت کہ تم اسلام کے دلائل حقیت اور اس کی شوکت اور قوت کے مقابلہ پر مقہور ہو رہے ہو ان اپنے شرکاء کو مدد کے لئے بلاؤ اور یا درکھو کہ وہ ہر گز تمہاری مشکل کشائی نہ کریں گے اور نہ رے سر پر سے ٹال سکیں گے۔ اے رسول ان مشرکین کو کہہ کہ تم اپنے شرکاء کو جن کی پرستش کرتے ہو بلا کو تمہار۔