تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 111
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ||| سورة بنی اسراءیل خدا تعالی دنیا میں عذاب نازل نہیں کرتا جب تک پہلے اس سے کوئی رسول نہیں بھیجتا یہی سنت اللہ ہے۔(حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۴۸۷) اگر میں نہ آیا ہوتا تو ان بلاؤں میں کچھ تاخیر ہو جاتی پر میرے آنے کے ساتھ خدا کے غضب کے وہ مخفی ارادے جو ایک بڑی مدت سے مخفی تھے ظاہر ہو گئے جیسا کہ خدا نے فرمایا وَ مَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولاً۔اور تو بہ کرنے والے امان پائیں گے اور وہ جو بلا سے پہلے ڈرتے ہیں اُن پر رحم کیا جائے گا۔(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲۶۸) اس سے مسیح موعود کی نسبت پیشگوئی کھلے کھلے طور پر قرآن شریف میں ثابت ہوتی ہے کیونکہ جو شخص غور اور ایمانداری سے قرآن شریف کو پڑھے گا اُس پر ظاہر ہوگا کہ آخری زمانہ کے سخت عذابوں کے وقت جبکہ اکثر حصے زمین کے زیر وزبر کئے جائیں گے اور سخت طاعون پڑے گی اور ہر ایک پہلو سے موت کا بازار گرم ہوگا اُس وقت ایک رسول کا آنا ضروری ہے جیسا کہ خُدا تعالیٰ نے فرمایا وَ مَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولاً یعنی ہم کسی قوم پر عذاب نہیں بھیجتے جب تک عذاب سے پہلے رسول نہ بھیج دیں پھر جس حالت میں چھوٹے چھوٹے عذابوں کے وقت میں رسول آئے ہیں جیسا کہ زمانہ کے گزشتہ واقعات سے ثابت ہے تو پھر کیوں کر ممکن ہے کہ اس عظیم الشان عذاب کے وقت میں جو آخری زمانہ کا عذاب ہے اور تمام عالم پر محیط ہونے والا ہے جس کی نسبت تمام نبیوں نے پیشگوئی کی تھی خدا کی طرف سے رسول ظاہر نہ ہو اس سے تو صریح تکذیب کلام اللہ کی لازم آتی ہے۔(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۴۹۹) آیت قرآنی وَ مَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولًا سے صاف ظاہر ہے کہ اس قسم کے قہری عذاب کے نازل ہونے سے پہلے خدا کی طرف سے کوئی رسول ضرور مبعوث ہوتا ہے جو خلقت کو آنے والے عذاب سے ڈراتا ہے اور یہ عذاب اس کی تصدیق کے واسطے قہری نشانات ہوتے ہیں۔اس وقت بھی خدا کا ایک رسول تمہارے درمیان ہے جو مدت سے تم کو ان عذابوں کے آنے کی خبر دے رہا ہے۔پس سوچو اور ایمان لاؤ تا کہ نجات پاؤ۔( مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحه ۶۴۱ حاشیه) ہم عذاب نازل نہیں کیا کرتے مگر اس حالت میں کہ جب پہلے رسول آجاوے یعنی دنیا پر عذاب شدید نازل ہونا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ رسول آگیا ہے۔ہم عذاب نہیں کیا کرتے جب تک کوئی رسول نہ بھیج دی ہیں۔( مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ ۷۱۹) (البدرجلد ۲ نمبر ۲۸ مورخه ۳۱/ جولائی ۱۹۰۳ ء صفحه ۲۱۸)