تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 110 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 110

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام 11 + صاف فرماتا ہے کہ لا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ اُخری یعنی ایک کا بوجھ دوسرا نہیں اٹھائے گا۔سورة بنی اسراءیل سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب ، روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحه ۳۲۸،۳۲۷) حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے سامنے کسی نے کہا کہ حدیث میں آیا ہے ماتم کرنے سے مردہ کو تکلیف ہوتی ہے تو انہوں نے یہی کہا کہ قرآن میں تو آیا ہے لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرى الحکم جلد ۶ نمبر ۴۰ مورخه ۱۰ نومبر ۱۹۰۲ء صفحه ۵) کسی کے گناہ سے خدائے تعالیٰ کا کوئی ہرجہ نہیں ہوتا اور گناہ پہلے قانون نازل ہونے کے کچھ وجود نہیں رکھتا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولاً یعنی ہم گناہوں پر عذاب نہیں کیا کرتے جب تک رسول نہیں بھیجتے۔اور جب رسول آیا اور خیر و شر کا راہ بتلایا تو اس قانون کے وعدوں اور وعیدوں کے موافق عملدرآمد ہو گا کفارہ کی تلاش میں لگنا فنسی کی بات ہے کیا کفارہ وعدوں کو توڑ سکتا ہے بلکہ وعدہ وعدہ سے بدلتا ہے اور نہ کسی اور تد بیر سے۔(جنگ مقدس، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۸۱) ہم کسی قوم پر عذاب نازل نہیں کرتے جب تک ایک رسول بھیج نہ لیں۔(شهادة القرآن، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۵۳) اصل بات یہ ہے کہ نبی عذاب کو نہیں لاتا بلکہ عذاب کا مستحق ہو جانا اتمام حجت کے لئے نبی کو لاتا ہے۔اور اس کے قائم ہونے کے لئے ضرورت پیدا کرتا ہے۔اور سخت عذاب بغیر نبی قائم ہونے کے آتا ہی نہیں۔جیسا کہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولًا - (تجلیات الہیہ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۴۰۰) ہم کسی بستی پر غیر معمولی عذاب نازل نہیں کرتے جب تک ہم اُن پر اتمام حجت کے لئے ایک رسول نہ بھیج دیں۔(تجلیات الهیه، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۴۰۱) عادت اللہ ہمیشہ سے اس طرح پر جاری ہے کہ جب دنیا ہر ایک قسم کے گناہ کرتی ہے اور بہت سے گناہ ان کے جمع ہو جاتے ہیں تب اس زمانہ میں خدا اپنی طرف سے کسی کو مبعوث فرماتا ہے اور کوئی حصہ دنیا کا اس کی تکذیب کرتا ہے تب اُس کا مبعوث ہونا دوسرے شریر لوگوں کی سزادینے کے لئے بھی جو پہلے مجرم ہو چکے ہیں ایک محرک ہو جاتا ہے اور جو شخص اپنے گزشتہ گناہوں کی سزا پاتا ہے اُس کے لئے اس بات کا علم ضروری نہیں کہ اس زمانہ میں خدا کی طرف سے کوئی نبی یا رسول بھی موجود ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَا كُنا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولًا - (حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۶۵،۱۶۴)