تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 98 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 98

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۹۸ سورة بنی اسراءیل گئی۔یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ جو کچھ مسیح موعود کو دیا گیا وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں موجود ہے۔اور پھر قدم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آسمانی سیر کے طور پر اوپر کی طرف گیا اور مرتبہ قَابَ قَوْسَيْن کا پایا۔یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مظہر صفات الہیہ اتم اور اکمل طور پر تھے۔غرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اس قسم کا معراج یعنی مسجد الحرام سے مسجد اقصیٰ تک جوز مانی مکانی دونوں رنگ کی سی تھی اور نیز خدا تعالیٰ کی طرف ایک سیر تھا جو مکان اور زمان دونوں سے پاک تھا۔اس جدید طرز کی معراج سے غرض یہ تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خیر الاولین والآخرین ہیں اور نیز خدا تعالیٰ کی طرف سیران کا اس نقطہ ارتفاع پر ہے کہ اس سے بڑھ کر کسی انسان کو گنجائش نہیں۔مگر اس حاشیہ میں ہماری صرف یہ غرض ہے کہ جیسا کہ آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں کشفی طور پر لکھا گیا تھا کہ قرآن شریف میں قادیاں کا ذکر ہے۔یہ کشف نہایت صحیح اور درست تھا کیونکہ زمانی رنگ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا معراج اور مسجد اقصیٰ کی طرف سیر مسجد الحرام سے شروع ہو کر یہ کسی طرح صحیح نہیں ہوسکتا جب تک ایسی مسجد تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سیر تسلیم نہ کیا جائے جو باعتبار بعد زمانہ کے مسجد اقصٰی ہو۔اور ظاہر ہے کہ مسیح موعود کا وہ زمانہ ہے جو اسلامی سمندر کا بمقابلہ زمانہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دوسرا کنارہ ہے ابتدا سیر کا جو مسجد الحرام سے بیان کیا گیا اور انتہا سیر کا جو اس بہت دُور مسجد تک مقرر کیا گیا جس کے ارد گرد کو برکت دی گئی۔یہ برکت دینا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ زمانہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں شوکتِ اسلام ظاہر کی گئی اور حرام کیا گیا کہ کفار کا دست تعدی اسلام کو مٹادے جیسا کہ آیت وَ مَنْ دَخَلَه كَانَ آمِنًا (ال عمران : ۹۸) سے ظاہر ہے۔لیکن زمانہ مسیح موعود میں جس کا دوسرا نام مہدی بھی ہے تمام قوموں پر اسلام کی برکتیں ثابت کی جائیں گی اور دکھلایا جائے گا کہ ایک اسلام ہی بابرکت مذہب ہے جیسا کہ بیان کیا گیا کہ وہ ایسا برکات کا زمانہ ہوگا کہ دنیا میں صلح کاری کی برکت پھیلے گی اور آسمان اپنے نشانوں کے ساتھ برکتیں دکھلائے گا اور زمین میں طرح طرح کے پھلوں کے دستیاب ہونے اور طرح طرح کے آراموں سے اس قدر برکتیں پھیل جائیں گی جو اس سے پہلے کبھی نہیں پھیلی ہوں گی۔اسی وجہ سے مسیح موعود اور مہدی معہود کے زمانہ کا نام احادیث میں زمان البرکات ہے جیسا کہ تم دیکھتے ہو کہ ہزار ہانی ایجادوں نے کیسی زمین پر برکتیں اور آرام پھیلا دیئے ہیں کیونکہ ریل کے ذریعہ سے مشرق اور مغرب کے میوے ایک جگہ اکٹھے ہو سکتے ہیں اور تار کے ذریعہ سے ہزاروں کوسوں کی خبریں پہنچ جاتی ہیں۔سفر کی وہ تمام مصیبتیں یکدفعہ دور ہوگئیں جو پہلے زمانوں میں تھیں۔