تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 96 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 96

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۹۶ سورة بنی اسراءیل بیداری ہی ہے۔میں اس کا نام خواب ہرگز نہیں رکھتا اور نہ کشف کے ادنی درجوں میں سے اس کو سمجھتا ہوں بلکہ یہ کشف کا بزرگ ترین مقام ہے جو در حقیقت بیداری بلکہ اس کثیف بیداری سے یہ حالت زیادہ اصفی اور اجلی ہوتی ہے اور اس قسم کے کشفوں میں مؤلف خود صاحب تجربہ ہے۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۲۶ حاشیه ) وَأَمَّا مِعْرَاجُ رَسُوْلِنَا فَكَانَ أَمْرًا ہمارے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معراج الجازيا مِنْ عَالَمِ الْيَقظَةِ الرُّوْحَانِيَّةِ لطیف اور کامل روحانی بیداری کے عالم کا ایک اعجازی اللَّطِيفَةِ الْكَامِلَةِ، فَقَدْ عُرِجَ رَسُولُ الله واقعہ ہے۔آپ جسم سمیت آسمان کی طرف اُٹھائے گئے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِسْمِهِ إِلَى السَّمَاءِ درانحالیکہ آپ بیدار تھے اس میں کوئی شک وشبہ نہیں وَهُوَ يَفْطَانُ لا شَكٍّ فِيْهِ وَلا رَيْبَ، ولكن لیکن بایں ہمہ حضور کا جسم مبارک چار پائی پر موجود رہا جیسا مع ذلِك مَا فُقِدَ جِسْمُه مِن الشرير گما کہ آپ کی بعض ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن اور شَهِدَ عَلَيْهِ بَعْضُ أَزْوَاجِهِ رَضِيَ اللهُ عَلَهُنَّ ایسا ہی بہت سے صحابہ نے شہادت دی ہے۔پس تو وَكَذَلِكَ كَثِيرٌ مِن الصَّحَابَةِ فَأَنْتَ خوب جانتا اور سمجھتا ہے کہ معراج کا واقعہ اور چیز ہے۔تَعْلَمُ وَتَفَهَمُ أَنَّ قِصَّةَ الْمِعْرَاج شيئ الخَرُ حضرت عیسی علیہ السلام کے آسمانوں پر چڑھنے کے لَا يُضَاهِيْهِ قِصَّةُ صُعُودِ عِیسَی عَلَيْهِ واقعہ کی اس سے کوئی مشابہت نہیں۔اور اگر تمہیں اس السَّلَامُ إِلَى السَّمَاءِ ، وَإِنْ كُنْتَ نَشْكُ فِيهِ بارے میں کوئی شک ہو تو صحیح بخاری کی طرف رجوع کرو فَارْجِعْ إِلَى الْبُخَارِى وَمَا أَظُنُّ أَنْ تَبْقَى اور میں خیال کرتا ہوں کہ اس کے بعد تم شک کرنے بَعْدَهُ مِنَ الْمُرْتَابِينَ والوں میں نہیں رہو گے۔(ترجمہ از مرتب ) حمامة البشرى، روحانی خزائن جلد ۷ صفحه ۲۲۰،۲۱۹) قرآن شریف کی یہ آیت کہ سُبُحْنَ الَّذِى أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلاً مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَا الَّذِي بُرَكْنَا حَوْلَهُ معراج مکانی اور زمانی دونوں پر مشتمل ہے اور بغیر اس کے معراج ناقص رہتا ہے پس جیسا کہ سیر مکانی کے لحاظ سے خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد الحرام سے بیت المقدس تک پہنچا دیا تھا ایسا ہی سیر زمانی کے لحاظ سے آنجناب کو شوکت اسلام کے زمانہ سے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ تھا برکات اسلامی کے زمانہ تک جو مسیح موعود کا زمانہ ہے پہنچادیا۔پس اس پہلو کے رو سے جو اسلام