تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 95
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام عُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطِنِ الرَّحِيمِ ۹۵ سورة بنی اسراءیل بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ تفسیر سورۃ بنی اسراءیل بیا سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ سُبُحْنَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَا الَّذِى بُرَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ أَيْتِنَا ۖ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندہ کو رات کے وقت میں سیر کرایا یعنی ضلالت اور گمراہی کے زمانہ میں جورات سے مشابہ ہے مقامات معرفت اور یقین تک لڈ ٹی طور سے پہنچایا۔( براہینِ احمد یہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۶۰۰ حاشیه در حاشیہ نمبر ۳) پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندہ کو ایک ہی رات میں تمام سیر کرا دیا۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۱۱۲) سیر معراج اس جسم کثیف کے ساتھ نہیں تھا بلکہ وہ نہایت اعلیٰ درجہ کا کشف تھا جس کو در حقیقت بیداری کہنا چاہیئے۔ایسے کشف کی حالت میں انسان ایک نوری جسم کے ساتھ حسب استعداد نفس ناطقہ اپنے کے آسمانوں کی سیر کر سکتا ہے پس چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نفس ناطقہ کی اعلیٰ درجہ کی استعداد تھی اور انتہائی نقطہ تک پہنچی ہوئی تھی اس لئے وہ اپنی معراجی سیر میں معمورہ عالم کے انتہائی نقطہ تک جو عرش عظیم سے تعبیر کیا جاتا ہے پہنچ گئے سو در حقیقت یہ سیر کشفی تھا جو بیداری سے اشد درجہ پر مشابہ ہے بلکہ ایک قسم کی