تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 87 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 87

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۸۷ سورة النحل و فصاحت بلاغت کے بارہ میں فرما یا هذَا لِسَانُ عَرَب مُبِین ۱۵/ ۱۹ اور پھر اس کی نظیر مانگی اور کہا کہ اگر تم کچھ کر سکتے ہو تو اس کی نظیر دو۔پس عربی مبین کے لفظ سے فصاحت بلاغت کے سوا اور کیا معنے ہو سکتے ہیں؟ خاص کر جب ایک شخص کہے کہ میں یہ تقریر ایسی زبان میں کرتا ہوں کہ تم اس کی نظیر پیش کرو تو بجز اس کے کیا سمجھا جائے گا کہ وہ کمال بلاغت کا مدعی ہے اور مبین کا لفظ بھی اسی کو چاہتا ہے۔مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحه ۳۵۴) مَنْ كَفَرَ بِاللَّهِ مِنْ بَعْدِ اِيْمَانِةِ إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَهِنَّ بِالْإِيمَانِ وَ لكِنْ مَنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَيْهِمُ غَضَبٌ مِّنَ اللَّهِ ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عظيم 1۔2) کا فر عذاب میں ڈالے جائیں گے مگر ایسا شخص جس پر زبردستی کی جائے یعنی ایمانی شعار کے ادا کرنے سے کسی فوق الطاقت عذاب کی وجہ سے روکا جائے اور دل اس کا ایمان سے تسکین یافتہ ہے وہ عند اللہ معذور ہے مطلب اس آیت کا یہ ہے کہ اگر کوئی ظالم کسی مسلمان کو سخت درد ناک اور فوق الطاقت زخموں سے مجروح کرے اور وہ اس عذاب شدید میں کوئی ایسے کلمات کہہ دے کہ اس کا فر کی نظر میں کفر کے کلمات ہوں مگر وہ خود کفر کے کلمات کی نیت نہ کرے بلکہ دل اس کا ایمان سے لبالب ہو اور صرف یہ نیت ہو کہ وہ اس نا قابل برداشت سختی کی وجہ سے اپنے دین کو چھپاتا ہے مگر نہ عمداً بلکہ اس وقت جبکہ فوق الطاقت عذاب پہنچنے سے بے حواس اور دیوانہ سا ہو جائے تو خدا اس کی تو بہ کے وقت اس کے گناہ کو اس کی شرائط کی پابندی سے جو نیچے کی آیت میں مذکور ہیں معاف کر دے گا کیونکہ وہ غفور ورحیم ہے اور وہ شرائط یہ ہیں۔(دیکھئے تفسیر طذا آیت ۱۱۱) نور القرآن نمبر ۲، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۴۱۲) ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِينَ هَاجَرُوا مِنْ بَعْدِ مَا فَتِنُوا ثُمَّ جَهَدُوا وَ صَبَرُوا إِنَّ رَبَّكَ و، مِنْ بَعْدِهَا لَغَفُورٌ رَّحِيم ایسے لوگ جو فوق الطاقت دکھ کی حالت میں اپنے اسلام کا اختفاء کریں ان کا اس شرط سے گناہ بخشا جائے گا کہ دکھ اٹھانے کے بعد پھر ہجرت کریں یعنی ایسی عادت سے یا ایسے ملک سے نکل جائیں جہاں دین پر