تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 84 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 84

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۸۴ سورة النحل مقرر ہوا تھا مجھ کو بٹھلایا اور اور خود نوکروں کی طرح پنکھا کرنے لگا، بہت خوشامد کرنے لگا کہ کچھ چاء وغیرہ پی کر جاویں۔پس دیکھو کہ احسان کس قدر دلوں کو مسخر کر لیتا ہے۔( بدر جلد ۶ نمبر ۲۷ مورخہ ۴؍ جولائی ۱۹۰۷ صفحہ ۷) خدا تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ عدل کرو اور عدل سے بڑھ کر یہ کہ احسان کرو جیسے بچہ سے اس کی والدہ یا کوئی اور شخص محض قرابت کے جوش سے کسی کی ہمدردی کرتا ہے۔الحکم جلد ۳ نمبر ۳۴ مورخه ۲۳ رستمبر ۱۸۹۹ صفحه ۴) خدا حکم فرماتا ہے کہ تمام دُنیا کے ساتھ تم عدل کرو یعنی جس قدر حق ہے اُس قدر لو اور انصاف سے بنی نوع کے ساتھ پیش آؤ۔اور اس سے بڑھ کر یہ حکم ہے کہ تم بنی نوع سے احسان کرو یعنی وہ سلوک کرو جس سلوک کا کرنا تم پر فرض نہیں محض مروّت ہے۔مگر چونکہ احسان میں بھی ایک عیب مخفی ہے کہ صاحب احسان کبھی ناراض ہو کر اپنے احسان کو یاد بھی دلا دیتا ہے۔اس لئے اس آیت کے آخر میں فرمایا کہ کامل نیکی یہ ہے کہ تم اپنے بنی نوع سے اس طور سے نیکی کرو کہ جیسے ماں اپنے بچہ سے نیکی کرتی ہے کیونکہ وہ نیکی محض طبیعی جوش سے ہوتی ہے نہ کسی پاداش کی غرض سے یہ دل میں ارادہ ہی نہیں ہوتا کہ یہ بچہ اس نیکی کے مقابل مجھے بھی کچھ عنایت کرے۔پس وہ نیکی جو بنی نوع سے کی جاتی ہے کامل درجہ اُس کا یہ تیسرا درجہ ہے جس کو ایتائی ذی الْقُرْنی کے لفظ سے بیان فرمایا گیا ہے۔(چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۳۸۸) مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَوةً طَيِّبَةً وَ لَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ۔ہماری یہی عادت اور یہی سنت ہے کہ جو شخص عمل صالح بجا لاوے۔مرد ہو یا عورت ہو اور وہ مومن ہو ہم اس کو ایک پاک زندگی کے ساتھ زندہ رکھا کرتے ہیں اور اس سے بہتر جزا دیا کرتے ہیں جو وہ عمل کرتے ہیں۔اب اگر اس آیت کو صرف زمانہ مستقبلہ سے وابستہ کر دیا جائے تو گویا اس کے یہ معنے ہوں گے کہ گذشتہ اور حال میں تو نہیں مگر آئندہ اگر کوئی نیک عمل کرے تو اس کو یہ جزا دی جائے گی۔اس طور کے معنوں سے یہ ماننا پڑتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے آیت کے نزول کے وقت تک کسی کو حیا و طیبہ عنایت نہیں کی تھی فقط یہ آئندہ کے لئے وعدہ تھا لیکن جس قدر ان معنوں میں فساد ہے وہ کسی عظمند پر مخفی نہیں۔الحق مباحثہ دہلی ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۱۶۴)