تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 83
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۸۳ سورة النحل طرح طرح کی تکالیف برداشت کرتی ہے۔اب بتاؤ کہ ماں جو کچھ اپنے بچے کے واسطے کرتی ہے اس میں تصنع اور بناوٹ کا کوئی بھی شعبہ پایا جاتا ہے؟ پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ احسان کے درجہ سے بھی آگے بڑھو اور ایتَائِی ذِی القربی کے مرتبہ تک ترقی کرو اور خلق اللہ سے بغیر کسی اجر یا نفع و خدمت کے خیال کے طبعی اور فطری جوش سے نیکی کر وتمہاری خلق اللہ سے ایسی نیکی ہو کہ اس میں تصنع اور بناوٹ ہرگز نہ ہو۔ایک دوسرے موقع پر یوں فرمایا ہے: لَا نُرِيدُ مِنْكُم جَزَاء وَ لَا شُكُورًا (الدهر : ١٠) یعنی خدا رسیدہ اور اعلیٰ ترقیات پر پہنچے ہوئے انسان کا یہ قاعدہ ہے کہ اس کی نیکی خالصائلہ ہوتی ہے اور اس کے دل میں بھی یہ خیال نہیں ہوتا کہ اس کے واسطے دعا کی جاوے پاس کا شکریہ ادا کیا جاوے نیکی محض اس جوش کے تقاضا سے کرتا ہے جو ہمدردی بنی نوع کے واسطے اس کے دل میں رکھا گیا ہے۔ایسی پاک تعلیم نہ ہم نے توریت میں دیکھی ہے اور نہ انجیل میں۔ورق ورق کر کے ہم نے پڑھا ہے مگر ایسی پاک اور مکمل تعلیم کا نام ونشان نہیں۔(الحکم جلد ۱۲ نمبر ۴۱ مورخہ ۱۴؍ جولائی ۱۹۰۸ صفحه ۱۱۱۰) احسان ایک نہایت عمدہ چیز ہے۔اس سے انسان اپنے بڑے بڑے مخالفوں کو زیر کر لیتا ہے چنانچہ سیالکوٹ میں ایک شخص تھا جو کہ تمام لوگوں سے لڑائی رکھتا تھا اور کوئی ایسا آدمی نہ ملتا تھا جس سے اس کی صلح ہو یہاں تک کہ اس کے بھائی اور عزیز اقارب بھی اس سے تنگ آچکے تھے۔اس سے میں نے بعض دفعہ معمولی سا سلوک کیا اور وہ اس کے بدلہ میں کبھی ہم سے برائی سے پیش نہ آتا بلکہ جب ملتا تو بڑے ادب سے گفتگو کرتا۔اسی طرح ایک عرب ہمارے ہاں آیا اور وہ وہابیوں کا سخت مخالف تھا یہاں تک کہ جب اس کے سامنے وہابیوں کا ذکر بھی کیا جاتا تو گالیوں پر اتر آتا۔اس نے یہاں آکر بھی سخت گالیاں دینی شروع کیں اور وہابیوں کو برا بھلا کہنے لگا۔ہم نے اس کی کچھ پرواہ نہ کر کے اس کی خدمت خوب کی اور اچھی طرح سے اس کی دعوت کی اور ایک دن جبکہ وہ غصہ میں بھرا ہوا وہابیوں کو خوب گالیاں دے رہا تھا کسی شخص نے اس کو کہا کہ جس کے گھر تم مہمان ٹھہرے ہو وہ بھی تو وہابی ہے۔اس پر وہ خاموش ہو گیا اور اس شخص کا مجھ کو وہابی کہنا غلط نہ تھا کیونکہ قرآن شریف کے بعد صحیح احادیث پر عمل کرنا ہی ضروری سمجھتا ہوں۔خیر وہ شخص چند دن کے بعد چلا گیا۔اس کے بعد ایک دفعہ لاہور میں مجھ کو پھر ملا۔اگر چہ وہ وہابیوں کی صورت دیکھنے کا بھی روادار نہ تھا مگر چونکہ اس کی تواضع اچھی طرح سے کی تھی اس لئے اس کا وہ تمام جوش و خروش دب گیا اور وہ بڑی مہربانی اور پیار سے مجھ کو ملا۔چنانچہ بڑے اصرار کے ساتھ مجھ کو ساتھ لے گیا اور ایک چھوٹی سی مسجد میں جس کا کہ وہ امام