تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 76
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۷۶ سورة النحل عابد کے دل میں محبت ذات باری تعالیٰ کی پیدا ہو جاتی ہے اور اغراض نفسانیہ کا رائحہ اور بقیہ بالکل دور ہو جاتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ محبت ذاتی کا اصل اور منبع دو ہی چیزیں ہیں (۱) اوّل کثرت سے مطالعہ کسی کے حسن کا اور اس کے نقوش اور خال و خط اور شمائل کو ہر وقت ذہن میں رکھنا اور بار بار اس کا تصور کرنا (۲) دوسرے کثرت سے تصور کسی کے متواتر احسانات کا کرنا اور اس کے انواع و اقسام کے مروتوں اور احسانوں کو ذہن میں لاتے رہنا اور ان احسانوں کی عظمت اپنے دل میں بٹھانا۔( نور القرآن نمبر ۲ ، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۴۳۹ حاشیه ) خدا تم سے کیا چاہتا ہے بس یہی کہ تم تمام نوع انسان سے عدل کے ساتھ پیش آیا کرو پھر اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ ان سے بھی نیکی کرو جنہوں نے تم سے کوئی نیکی نہیں کی۔پھر اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ تم مخلوق خدا سے ایسی ہمدردی کے ساتھ پیش آؤ کہ گویا تم اُن کے حقیقی رشتہ دار ہو جیسا کہ مائیں اپنے بچوں سے پیش آتی ہیں کیونکہ احسان میں ایک خود نمائی کا مادہ بھی مخفی ہوتا ہے اور احسان کرنے والا کبھی اپنے احسان کو جتلا بھی دیتا ہے لیکن وہ جو ماں کی طرح طبعی جوش سے نیکی کرتا ہے وہ کبھی خود نمائی نہیں کر سکتا۔پس آخری درجہ نیکیوں کا طبعی جوش ہے جو ماں کی طرح ہو اور یہ آیت نہ صرف مخلوق کے متعلق ہے بلکہ خدا کے متعلق بھی ہے خدا سے عدل یہ ہے کہ اس کی نعمتوں کو یاد کر کے اس کی فرمانبرداری کرنا اور خدا سے احسان یہ ہے کہ اس کی ذات پر ایسا یقین کر لینا کہ گویا اس کو دیکھ رہا ہے اور خدا سے ایتائی ذی القربی یہ ہے کہ اُس کی عبادت نہ تو بہشت کے طمع سے ہو اور نہ دوزخ کے خوف سے۔بلکہ اگر فرض کیا جائے کہ نہ بہشت ہے اور نہ دوزخ ہے تب بھی جوش محبت اور اطاعت میں فرق نہ آوے۔(کشتی نوح ، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۳۱،۳۰) خدا تمہیں حکم دیتا ہے کہ انصاف کرو اور عدل پر قائم ہو جاؤ۔اور اگر اس سے زیادہ کامل بنا چاہو تو پھر احسان کرو۔یعنی ایسے لوگوں سے سلوک اور نیکی کرو جنہوں نے تم سے کوئی نیکی نہیں کی اور اگر اس سے بھی زیادہ کامل بننا چاہو تو محض ذاتی ہمدردی سے اور محض طبعی جوش سے بغیر نیت کسی شکر یا ممنون منت کرنے کے بنی نوع سے نیکی کرو۔جیسا کہ ماں اپنے بچہ سے فقط اپنے طبعی جوش سے نیکی کرتی ہے اور فرمایا کہ خدا تمہیں اس سے منع کرتا ہے کہ کوئی زیادتی کرو یا احسان جتلا و یا سچی ہمدردی کرنے والے کے کا فرنعمت بنو۔لیکھر لاہور، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۱۵۵) اس آیت میں ان تین مدارج کا ذکر کیا ہے جو انسان کو حاصل کرنے چاہئیں۔پہلا مرتبہ عدل کا ہے اور