تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 64 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 64

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۶۴ سورة المائدة مؤید یہ حدیث ہے کہ مَنْ مَّاتَ وَلَمْ يَعْرِفْ إِمَامَ زَمَانِهِ فَقَدْ مَاتَ مِيْتَةُ الْجَاهِلِيَّةِ يعنى جس شخص نے اپنے زمانہ کے امام کو شناخت نہ کیا وہ جاہلیت کی موت پر مر گیا اور صراط مستقیم سے بے نصیب رہا۔(حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۴۴ تا ۱۵۱) مَا الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ إِلَّا رَسُولُ : قَد خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ وَ أمه صِدِيقَةٌ كَانَا يَأْكُلِنِ الطَّعَامَ انْظُرُ كَيْفَ نُبَيِّنُ لَهُمُ الْآيَتِ ثُمَّ انْظُرُ الى ، يُؤْفَكُونَ یعنی مسیح صرف ایک رسول ہے اس سے پہلے نبی فوت ہو چکے ہیں اور ماں اس کی صدیقہ ہے جب وہ دونوں زندہ تھے تو طعام کھایا کرتے تھے۔یہ آیت بھی صریح نص حضرت مسیح کی موت پر ہے کیونکہ اس آیت میں بتصریح بیان کیا گیا ہے کہ اب حضرت عیسیٰ اور اُن کی والدہ مریم طعام نہیں کھاتے۔ہاں ! کسی زمانہ میں کھایا کرتے تھے جیسا کہ گانا کا لفظ اس پر دلالت کر رہا ہے جو حال کو چھوڑ کر گذشتہ زمانہ کی خبر دیتا ہے۔اب ہر یک شخص سمجھ سکتا ہے کہ حضرت مریم طعام کھانے سے اس وجہ سے روکی گئی کہ وہ فوت ہوگئی اور چونکہ گانا کے لفظ میں جو تثنیہ کا صیغہ ہے حضرت عیسی بھی حضرت مریم کے ساتھ شامل ہیں اور دونوں ایک ہی حکم کے نیچے داخل ہیں لہذا حضرت مریم کی موت کے ساتھ اُن کی موت بھی ماننی پڑی کیونکہ آیت موصوفہ بالا میں ہرگز یہ بیان نہیں کیا گیا کہ حضرت مریم تو بوجہ موت طعام کھانے سے روکے گئے لیکن حضرت ابن مریم کسی اور وجہ سے، اور جب ہم اس آیت مذکورہ بالا کو اس دوسری آیت کے ساتھ ملا کر پڑھیں کہ مَا جَعَلْتُهُم جَسَدًا الا يَأْكُلُونَ الطَّعَام (الانبیاء :۹۰) جس کے یہ معنے ہیں کہ کوئی ہم نے ایسا جسم نہیں بنایا کہ زندہ تو ہومگر کھانا نہ کھا تا ہو۔تو اس یقینی اور قطعی نتیجہ تک ہم پہنچ جائیں گے کہ فی الواقعہ حضرت مسیح فوت ہو گئے کیونکہ پہلی آیت سے ثابت ہو گیا کہ اب وہ کھانا نہیں کھاتے اور دوسری آیت بتلا رہی ہے کہ جب تک یہ جسم خاکی زندہ ہے طعام کھانا اس کے لئے ضروری ہے۔اس سے قطعی طور پر یہی نتیجہ لکھتا ہے کہ اب وہ زندہ نہیں ہیں۔(ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۲۶،۴۲۵) مخلوق کی شناخت کی بڑی علامت یہی ہے کہ بعض بعض سے مشارکت و مشابہت رکھتے ہیں اور کوئی فرد کوئی ایسی ذاتی خاصیت اور خصوصیت نہیں رکھتا جو دوسرے کسی فرد کو اس سے حصہ نہ ہو خواہ اصلا یا ظلاً تو