تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 62 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 62

۶۲ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة المائدة وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنکبوت :۷۰) پس اس آیت کے یہ معنی ہوئے کہ اللہ تعالٰی پر ایمان لانے والا ضائع نہیں کیا جاتا آخر اللہ تعالیٰ پوری ہدایت اُس کو کر دیتا ہے چنانچہ صوفیوں نے صدہا مثالیں اس کی لکھی ہیں کہ بعض غیر قوم کے لوگ جب کمال اخلاص سے خدا تعالیٰ پر ایمان لائے اور اعمال صالحہ میں مشغول ہوئے تو خدا تعالیٰ نے اُن کو اُن کے اخلاص کا یہ بدلہ دیا کہ اُن کی آنکھیں کھول دیں اور خاص اپنی دستگیری سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی اُن پر ظاہر کر دی۔یہی معنی اس آیت کے آخری فقرہ کے ہیں فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ خدا تعالیٰ کا اجر جب تک دنیا میں ظاہر نہیں ہوتا آخرت میں بھی ظاہر نہیں ہوتا۔پس دنیا میں خدا پر ایمان لانے کا یہ اجر ملتا ہے کہ ایسے شخص کو خدا تعالیٰ پوری ہدایت بخشتا ہے اور ضائع نہیں کرتا۔اسی کی طرف یہ آیت بھی اشارہ کرتی ہے۔وَ اِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ الأَلَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ ( النساء :۱۲۰) یعنی وہ لوگ جو در حقیقت اہل کتاب ہیں اور سچے دل سے خدا پر اور اُس کی کتابوں پر ایمان لاتے اور عمل کرتے ہیں وہ آخر کار اس نبی پر ایمان لے آئیں گے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ہاں خبیث آدمی جن کو اہل کتاب نہیں کہنا چاہئیے وہ ایمان نہیں لاتے۔ایسا ہی سوانح اسلام میں اس کی بہت سی مثالیں پائی جاتی ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ ایسا کریم ورحیم ہے اگر کوئی ایک ذرہ بھی نیکی کرے تب بھی اُس کی جزا میں اسلام میں اُس کو داخل کر دیتا ہے جیسا کہ ایک حدیث میں بھی ہے کہ کسی صحابی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی کہ میں نے کفر کی حالت میں محض خدا تعالیٰ کے خوش کرنے کے لئے بہت کچھ مال مساکین کو دیا تھا۔کیا اس کا ثواب بھی مجھ کو ہو گا۔تو آپ نے فرمایا کہ وہی صدقات ہیں جو تجھ کو اسلام کی طرف کھینچ لائے۔پس اسی طرح جو شخص کسی غیر مذہب میں خدا تعالی کو واحد لاشریک جانتا ہے اور اُس سے محبت کرتا ہے تو خدا تعالى بموجب آیت : فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِند ربهم آخر اس کو اسلام میں داخل کر دیتا ہے۔یہی معاملہ باوانا تک کو پیش آیا۔جب اُس نے بڑے اخلاص سے بت پرستی کو چھوڑ کر تو حید کو اختیار کیا اور خدا تعالیٰ سے محبت کی تو وہی خدا جس نے آیت ممدوحہ بالا میں فرمایا ہے : فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ ا اُس پر ظاہر ہوا اور اپنے الہام سے اسلام کی طرف اُس کو رہبری کی تب وہ مسلمان ہو گیا اور حج بھی کیا۔اور کتاب بحر الجواہر میں لکھا ہے کہ ابوالخیر نام ایک یہودی تھا جو پار ساطبع اور راستباز آدمی تھا اور خدا تعالیٰ کو واحد لاشریک جانتا تھا۔ایک دفعہ وہ بازار میں چلا جاتا تھا تو ایک مسجد سے اُس کو آواز آئی کہ ایک لڑکا قرآن شریف کی یہ آیت پڑھ رہا تھا: