تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 61 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 61

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۶۱ سورة المائدة اور جو شخص اپنی کسی قوت کو شریک باری ٹھہراتا ہے وہ کیوں کر موحد کہلا سکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ قرآن شریف نے جابجا توحید کامل کو پیروی رسول سے وابستہ کیا ہے۔کیونکہ کامل توحید ایک نئی زندگی ہے اور بجز اُس کے نجات حاصل نہیں ہو سکتی جب تک خدا کے رسول کا پیرو ہو کر اپنی سفلی زندگی پر موت وارد نہ کرے۔علاوہ اس کے قرآن شریف میں بموجب قول ان نادانوں کے تناقض لازم آتا ہے کیونکہ ایک طرف تو جابجاوہ یہ فرماتا ہے کہ بجز ذریعۂ رسول توحید حاصل نہیں ہو سکتی اور نہ نجات حاصل ہو سکتی ہے۔پھر دوسری طرف گویا وہ یہ کہتا ہے کہ حاصل ہو سکتی ہے حالانکہ توحید اور نجات کا آفتاب اور اُس کو ظاہر کرنے والا صرف رسول ہی ہوتا ہے اُسی کی روشنی سے توحید ظاہر ہوتی ہے پس ایسا تناقض خدا کی کلام کی طرف منسوب نہیں ہو سکتا۔بڑی غلطی اس نادان کی یہ ہے کہ اُس نے توحید کی حقیقت کو بالکل نہیں سمجھا تو حید ایک نور ہے جو آفاقی وانفسی معبودوں کی نفی کے بعد دل میں پیدا ہوتا ہے اور وجود کے ذرہ ذرہ میں سرایت کر جاتا ہے پس وہ بجز خدا اور اُس کے رسول کے ذریعہ کے محض اپنی طاقت سے کیوں کر حاصل ہو سکتا ہے؟ انسان کا فقط یہ کام ہے کہ اپنی خودی پر موت وارد کرے اور اس شیطانی نخوت کو چھوڑ دے کہ میں علوم میں پرورش یافتہ ہوں اور ایک جاہل کی طرح اپنے تئیں تصور کرے اور دعا میں لگا رہے تب توحید کا نور خدا کی طرف سے اُس پر نازل ہوگا اور ایک نئی زندگی اُس کو بخشے گا۔اخیر پر ہم یہ بیان کرنا بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ اگر ہم فرض محال کے طور پر یہ مان لیں کہ اللہ کا لفظ ایک عام معنوں پر مشتمل ہے جس کا ترجمہ خدا ہے اور ان معنوں کو نظر انداز کر دیں جو قرآن شریف پر نظر تد بر ڈال کر معلوم ہوتے ہیں یعنی یہ کہ اللہ کے مفہوم میں یہ داخل ہے کہ وہ وہ ذات ہے جس نے قرآن شریف بھیجا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا۔تب بھی یہ آیت مخالف کو مفید نہیں ہو سکتی کیونکہ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ کو مانا نجات کے لئے کافی ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص اللہ پر جو خدا تعالیٰ کا اسم اعظم ہے اور متجمع جمیع صفات کاملہ حضرت عزت ہے ایمان لائے گا تو خدا اُس کو ضائع نہیں کرے گا اور کشاں کشاں اس کو اسلام کی طرف لے آئے گا کیونکہ ایک سچائی دوسری سچائی میں داخل ہونے کے لئے مدد دیتی ہے اور اللہ تعالیٰ پر خالص ایمان لانے والے آخر حق کو پالیتے ہیں۔پر قرآن شریف میں یہ وعدہ ہے کہ جو شخص بچے دل سے خدا تعالیٰ پر ایمان لائے گا خدا اُس کو ضائع نہیں کرے گا اور حق اُس پر کھول دے گا اور راہ راست اُس کو دکھائے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: