تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 60
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۶۰ سورة المائدة آیت میں بر خلاف اس کے یہ بتلاوے کہ صرف توحید سے ہی نجات ہو سکتی ہے۔قرآن شریف اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی کچھ ضرورت نہیں اور طرفہ یہ کہ اس آیت میں توحید کا ذکر بھی نہیں۔اگر تو حید مراد ہوتی تو یوں کہنا چاہیے تھا کہ مَنْ آمَنَ بِالتَّوْحِيدِ۔مگر آیت کا تو یہ لفظ ہے کہ مَنْ آمَنَ باللہ۔پس امن باللہ کا فقرہ ہم پر یہ واجب کرتا ہے کہ ہم اس بات پر غور کریں کہ قرآن شریف میں اللہ کا لفظ کن معنوں پر آتا ہے۔ہماری دیانت کا یہ تقاضا ہونا چاہئے کہ جب ہمیں خود قرآن سے ہی یہ معلوم ہوا کہ اللہ کے مفہوم میں یہ داخل ہے کہ اللہ وہ ہے جس نے قرآن بھیجا اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا تو ہم اُسی معنی کو قبول کر لیں جو قرآن شریف نے بیان کئے اور خودروی اختیار نہ کریں۔ماسوا اس کے ہم بیان کر چکے ہیں کہ نجات حاصل کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ انسان خدا تعالی کی ہستی پر کامل یقین پیدا کرے اور نہ صرف یقین بلکہ اطاعت کے لئے بھی کمر بستہ ہو جائے اور اس کی رضا مندی کی راہوں کو شناخت کرے۔اور جب سے کہ دنیا پیدا ہوئی ہے یہ دونوں باتیں محض خدا تعالی کے رسولوں کے ذریعہ سے ہی حاصل ہوتی آئی ہیں پھر کس قدر یہ لغو خیال ہے کہ ایک شخص تو حید تو رکھتا ہو مگر خدا تعالیٰ کے رسول پر ایمان نہیں لاتا وہ بھی نجات پائے گا۔اے عقل کے اندھے اور نادان! توحید بجز ذریعہ رسول کے کب حاصل ہو سکتی ہے۔اس کی تو ایسی ہی مثال ہے کہ جیسے ایک شخص روز روشن سے تو نفرت کرے اور اُس سے بھاگے اور پھر کہے کہ میرے لئے آفتاب ہی کافی ہے دن کی کیا حاجت ہے۔وہ نادان نہیں جانتا کہ کیا آفتاب کبھی دن سے علیحدہ بھی ہوتا ہے۔ہائے افسوس! یہ نادان نہیں سمجھتے کہ خدا تعالیٰ کی ذات تو مخفی در مخفی اور غیب در غیب اور وراء الوراء ہے اور کوئی عقل اس کو دریافت نہیں کر سکتی جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے: لَا تُدْرِكْهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ (الانعام : ۱۰۴ ) - یعنی بصارتیں اور بصیر تیں اس کو پانہیں سکتیں اور وہ اُن کے انتہا کو جانتا ہے اور اُن پر غالب ہے۔پس اُس کی توحید محض عقل کے ذریعہ سے غیر ممکن ہے کیونکہ توحید کی حقیقت یہ ہے کہ جیسا کہ انسان آفاقی باطل معبودوں سے کنارہ کرتا ہے یعنی جوں یا انسانوں یا سورج چاند وغیرہ کی پرستش سے دستکش ہوتا ہے۔ایسا ہی انفسی باطل معبودوں سے پر ہیز کرے یعنی اپنی روحانی جسمانی طاقتوں پر بھروسہ کرنے سے اور اُن کے ذریعہ سے عجب کی بلا میں گرفتار ہونے سے اپنے تئیں بچاوے۔پس اس صورت میں ظاہر ہے کہ بجز ترک خودی اور رسول کا دامن پکڑنے کے توحید کامل حاصل نہیں ہوسکتی۔